سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو): گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں شعبہ سیاسیات کی پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ ممتاز نے کہا ہے کہ جمہوریت کے استحکام، عوامی مسائل کے فوری حل اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کے لئے مقامی حکومتوں کا قیام اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔ منتخب بلدیاتی ادارے ہی عوام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہوئے میونسپل سروسز، صفائی ستھرائی، نکاسی آب اور مقامی ترقیاتی منصوبوں کو بہتر انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی سیالکوٹ اور سماجی تنظیم ’’بیداری‘‘ کے باہمی اشتراک سے جمہوریت کے استحکام، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور انتخابی عمل کی اہمیت کے حوالے سے منعقدہ آگاہی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ سے ڈاکٹر محمد مظفر، نائب صدر بیداری حنا نورین، ساجد اقبال خان اور ناظمہ ارشاد نے بھی خطاب کیا۔
نائب صدر بیداری حنا نورین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منتخب مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی عوامی نمائندگی اور مقامی مسائل کے مؤثر حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لیے بلدیاتی نظام کی بحالی اور عوام کو فیصلہ سازی میں براہِ راست شریک کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے فوری شیڈول جاری کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلدیاتی نظام سے متعلق تمام اقدامات آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 32 اور 140-A کے تقاضوں کے مطابق کیے جائیں تاکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور جمہوری اداروں کا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ ورکشاپ کے دوران پنجاب میں مقامی حکومتوں کے نظام کی بحالی اور اصلاحات کے لیے ماہرین، سول سوسائٹی، میڈیا نمائندگان اور دانشوروں پر مشتمل مشترکہ اتحاد کے قیام کو بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

