امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تحت ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کو براہِ راست ملاقات کی پیشکش کی ہے۔
امریکی اخبار نے ایک باخبر امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے نزدیک محسن رضائی کسی بھی ممکنہ دوطرفہ معاہدے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور کلیدی شخصیت ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس حکام کا یہ پختہ خیال ہے کہ محسن رضائی ایرانی سپریم لیڈر کے انتہائی قریب ہیں، اور یہ مجوزہ ملاقات ترکیہ کے شہر استنبول یا قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے محسن رضائی کو اس حوالے سے باقاعدہ ایک خط بھی ارسال کیا تھا۔
‘واشنگٹن پوسٹ’ کے مطابق، اس خط میں دونوں ملکوں کے باہمی قومی مفادات کو مذاکرات کی بنیادی بنیاد بنانے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی اس وقت سب سے بڑی اور بنیادی ترجیح ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام کو روکنے پر رضامند ہو جاتا ہے تو اس کے بدلے میں اس پر عائد سخت معاشی پابندیاں ہٹا لی جائیں گی۔ علاوہ ازیں، خلیجی ریاست قطر اس پورے معاملے میں ایک اہم اور فعال ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور وہ مسلسل ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے۔
"آئیے مل بیٹھتے ہیں”، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی محسن رضائی کو بڑی پیشکش

