پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے موقع پر 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے دوران پشاور میں ریڈیو پاکستان پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نامزد ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے سہیل آفریدی سمیت 5 اہم سیاسی شخصیات اور رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔
اطلاعات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت پشاور میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی جس کی سماعت عدالت کے جج ولی محمد نے کی، سماعت کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس کی جانب سے تیار کردہ تکمیلی چالان باضابطہ طور پر عدالت میں جمع کرادیا۔
پولیس رپورٹ اور تفتیشی حکام کی جانب سے پیش کردہ شواہد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جدید فرانزک سائنسی رپورٹس اور ویڈیو شواہد کی روشنی میں نامزد ملزمان کی جائے وقوعہ پر موجودگی حتمی طور پر ثابت ہوتی ہے، اس کی بناء پر عدالت کی جانب سے جن افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ان میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزراء کامران بنگش اور تیمور سلیم جھگڑا کے علاوہ عرفان سلیم اور عامر چمکنی بھی شامل ہیں۔
استغاثہ اور پولیس رپورٹس میں کہا گیا کہ ان رہنماؤں پر 9 مئی کے روز سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، جلاؤ گھیراؤ کرنے اور انتشار پھیلانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی تصدیق نادرا اور فرانزک لیبارٹری کی رپورٹس سے بھی کی گئی ہے، جس پر عدالت نے آئندہ کی کارروائی کے لیے فریقین کو طلب کرتے ہوئے کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ اس مقدمے میں پولیس چالان جمع ہونے اور وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد اس ہائی پروفائل کیس کی کارروائی میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
9 مئی ہنگامہ آرائی کیس، سہیل آفریدی اور 4 سابق صوبائی وزراء کے وارنٹ گرفتاری جاری

