تل ابیب :اسرائیل کی تاریخ کے اہم ترین اور فیصلہ کن انتخابات میں سے ایک قرار دیے جانے والے انتخاب میں ووٹر ٹرن آؤٹ سنہ 1977 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
ابتدائی سرویز کے مطابق موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کے درمیان وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلے کی صورت اختیار کر چکی ہے، اور دونوں امیدوار تقریباً برابر پوزیشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔
تاہم اندازوں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے سیاسی اتحاد پارلیمان میں حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت کی تشکیل کے لیے کئی ہفتوں یا حتیٰ کہ کئی ماہ تک سیاسی جوڑ توڑ اور مذاکرات جاری رہنے کا امکان ہے۔
اس انتخاب کو بڑی حد تک نیتن یاہو کی حکمرانی پر عوامی رائے شماری یا ریفرنڈم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
منگل کی صبح متعدد بڑی سیاسی جماعتوں نے ملک بھر کے پولنگ سٹیشنوں پر مبینہ بے ضابطگیوں اور غیر معمولی واقعات کی شکایات کیں۔ تاہم اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی (سی ای سی) کا کہنا ہے کہ بیلٹ پیپرز میں منظم چھیڑ چھاڑ یا انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کسی منظم کوشش کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
اسرائیلی انتخابات، یاہو آئزنکوٹ میں کانٹے دار مقابلہ، پانچ دہائیوں بعد ریکارڈ ٹرن آؤٹ

