کیلیفورنیا: دنیا کی معروف کاروباری شخصیت اور امیر ترین آدمی ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی مدد سے تیار کردہ اپنی پہلی اینیمیٹڈ/ویژول فلم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
ایلون مسک نے یونانی شاعر ہومر (Homer) کی شہرہ آفاق کلاسیکی داستان ’اوڈیسی‘ (Odyssey) سے متاثر ہو کر بنائی گئی اے آئی فلم کی پہلی قسط سوشل میڈیا پر جاری کر کے عالمی فلمی صنعت اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں شدید سنسنی پھیلا دی ہے۔
Watch Episode 1 of our Odyssey series made with Grok Imagine.
Let us know in the comments if you’d like a full breakdown of how it was done!
Creative collaboration with @WonderStudiosX and director Dev Walker @glumlot_ https://t.co/xpgpkqSCpq
— Grok Imagine (@imagine) October 23, 2026
سات منٹ سے زائد دورانیے کی اس شارٹ ویڈیو کے ذریعے ایلون مسک نے اپنے تاریخی اے آئی فلم سازی کے پراجیکٹ کا پہلا باضابطہ ٹیزر دنیا کے سامنے رکھا اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (X) پر مداحوں سے ان کی آرا طلب کیں۔
ایلون مسک نے انکشاف کیا کہ اس ویڈیو اور پراجیکٹ میں ان کی اپنی اینٹیلی جنس کمپنی کے جدید ترین ویژول AI ماڈل ’گروک امیجن‘ (Grok Imagine)، ‘ونڈر اسٹوڈیوز’ اور معروف ہدایت کار ‘دیو واکر’ کے تکنیکی تعاون سے کام لیا گیا ہے۔یلون مسک اس سے قبل اعلان کر چکے ہیں کہ وہ 2026ء کے اختتام سے قبل مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک مکمل فیچر فلم تیار کر کے عالمی سینما اور سوشل میڈیا پر پیش کریں گے، جس کا سکرپٹ اور کردار ہومر کی اصل تاریخی داستان سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوں گے۔
ایلون مسک کا یہ قدم ہالی ووڈ پر ان کی حالیہ شدید تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ مسک نے ہالی ووڈ کے معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی جانب سے اوڈیسی پر بننے والی فلم میں تاریخی کرداروں کی کاسٹنگ کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا تھا—خصوصاً لوپیتا نیونگو کو ‘ہیلن آف ٹرائے’ اور ایلیٹ پیج کو ‘سینون’ کاسٹ کرنے پر۔ مسک کا مؤقف تھا کہ ہومر کی داستان میں ‘ہیلن آف ٹرائے’ کی بے مثال خوبصورتی ہی ‘ٹروجن وار’ (Trojan War) کی بنیادی وجہ بنتی ہے، لہٰذا کاسٹنگ میں تاریخی حقائق سے انحراف کہانی کے تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔
ایلون مسک کا ‘گروک امیجن’ پر مبنی یہ نیا تخلیقی تجربہ نہ صرف اے آئی کی تکنیکی پیشرفت کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کا بھی واضح اشارہ ہے کہ مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت ہالی ووڈ کے روایتی سٹوڈیوز، ڈائریکٹرز اور انسانی ایکٹرز کے متبادل کے طور پر فلم سازی کے تمام اصول تبدیل کرنے جا رہی ہے۔

