تل ابیب: اسرائیل کے اندرونی سیاسی منظر نامے میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اندرون ملک سیاسی و عوامی سطح پر تاریخ کے بدترین دباؤ کا سامنا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں اسرائیلی ووٹرز اور عام شہریوں کی جانب سے اب کھل کر سیاسی تبدیلی اور حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے فوری معاہدے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ اور مقامی رپورٹس کے مطابق، طویل جنگ اور ملک کو درپیش معاشی و سکیورٹی بحرانوں کے بعد عام شہریوں میں موجودہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ووٹرز کا ماننا ہے کہ جنگ کو طول دینے کے بجائے اب ترجیح غزہ میں قید یرغمالیوں کی سلامتی اور ان کی رہائی کو یقینی بنانی چاہیے، جس کے لیے حماس کے ساتھ ایک متوازن معاہدہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ نے نیتن یاہو کی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور آنے والے دنوں میں اسرائیل کے سیاسی مستقبل میں بڑی تبدیلیوں کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

