لاہور :مسلم لیگ (ن) کی رہنما و چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے اپنی حالیہ ٹویٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ مریم نواز شریف کی حکومت میں انصاف فوری ملتا ہے۔ یہ ان کی ذاتی رائے تھی جو ایک عام شہری کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔
اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹویٹ میں نہ تو وزیر اعلیٰ پنجاب پر الزام لگایا گیا، نہ پنجاب حکومت پر کوئی تنقید کی گئی اور نہ ہی کسی عدالت کے بارے میں کوئی بات کہی گئی۔ اس لیے اس ٹویٹ پر پروپیگنڈا اور تنقید کرنا بے جا تھا۔
وضاحتی بیان: میں نے یہ ٹویٹ کہ ’’یہ مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے، یہاں فوری انصاف ملتا ہے‘‘ اپنی ذاتی رائے کے طور پر کیا تھا۔ یہ نہ حکومت کے خلاف کوئی چارج شیٹ تھی اور نہ کسی ادارے پر تنقید۔ میرے خیال میں اس پر ہونے والی تنقید غیر ضروری ہے۔
میں اپنی کولیگ عظمیٰ بخاری کا احترام کرتی ہوں۔ بطور وزیر اطلاعات حکومت کی پالیسی واضح کرنا اور اس کا دفاع کرنا ان کی ذمہ داری ہے، لیکن میرے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دی گئی رائے کو ناسمجھی قرار دینا یا اس سے حکومت کی شرمندگی جوڑنا غیر ضروری تھا۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ میری رائے سے حکومت کو شرمندگی ہوئی۔— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) October 22, 2026
حنا پرویز بٹ نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے اس بیان سے اختلاف کیا کہ ان کی ٹویٹ سے خود عظمیٰ بخاری کو کوئی شرمندگی ہوئی ہے ۔ ان کی کسی بات یا عمل سے وزیر اعلیٰ پنجاب یا حکومت پنجاب کو کبھی کوئی ایمبیرسمنٹ نہیں ہوئی، اگر عظمیٰ بخاری خود کوئی شرمندگی محسوس کر رہی ہیں تو یہ ان کی ذاتی چوائس ہے۔عظمیٰ بخاری حکومت کی آفیشل سپوکسپرسن ہیں اور انہوں نے حکومت کی پالیسی کو واضح کیا جو اچھی بات ہے، تاہم ان پر کیے گئے ریمارکس غیر ضروری تھے
کراچی کی ایزل، ملتان کے وسیم، اسلام آباد کی لائبہ، سرگودھا کی منتہا اور ایبٹ آباد کی ایمان کے کیسز کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے والدین کو اپنے پروگرام میں بلا کر ان سے پوچھا جائے کہ ان کے بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے۔انہوں نے وہی بات کہی ہے جو عوامی جذبات اور عوام کی آواز ہے۔ جو لوگ مجرموں کا دفاع کرنے آرہے ہیں وہ ان خاندانوں سے نہیں ملتے جن کے بچوں اور بچیوں کی لاشیں بری حالت میں ملتی ہیں۔ وہ خود ایسے والدین سے ملتی ہیں۔
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ جس کے دل میں ذرا سی بھی انسانیت ہوگی وہ سوچے کہ ملتان کے وسیم کی خبر سن کر دل پر کیا گزری ہوگی، 18سالہ ایزل کی ماں کیسے جی رہی ہوگی، اور لائبہ کے والد پر کیا بیتی ہوگی جب انہیں پتا چلا کہ ان کی بیٹی شرمندگی میں جان سے گزر گئی کیونکہ وہ اپنے باپ کو کیسے بتاتی کہ اس نے ایک درندے کو انسان سمجھ لیا تھا۔

