سکھر (رپورٹ/عبد الرحمان راجپوت)
سکھر میں بجلی کے ہوشربا اور اضافی بلوں نے عوام اور تاجر برادری کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر سکھر اسمال ٹریڈرز کے دفتر میں تاجر رہنماؤں اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کے اعلیٰ افسران کے درمیان ایک اہم اور ہنگامی ملاقات منعقد ہوئی۔ ملاقات میں بجلی کے بلوں میں صریح بے ضابطگیوں، غیر قانونی اضافی بلنگ، ڈیڈکشن کے نظام کی خرابی اور گھریلو صارفین سمیت چھوٹے تاجروں کو درپیش معاشی بحران پر انتہائی تفصیلی اور سخت تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران تاجر رہنماؤں نے سیپکو افسران کو دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ سکھر میں چھوٹے تاجروں اور عام گھریلو صارفین کو بلوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اضافی یونٹس کے اندراج کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس ظالمانہ صورتحال نے نہ صرف غریب عوام کا گھریلو بجٹ تباہ کر دیا ہے بلکہ چھوٹے کاروباری افراد کا کاروبار بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ملاقات میں سکھر سیپکو کے اسسٹنٹ کمشنر عبدالحق سیال، ایکسین خلیل احمد چانڈیو اور ایس ڈی او مشتاق قریشی نے خصوصی شرکت کی۔ دوسری جانب سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن، جنرل سیکرٹری عامر فاروقی، پریس سیکرٹری ڈاکٹر سعید اعوان اور پاکستان میڈیا کونسل کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد عمران مغل بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس موقع پر سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری اور عوام اب مزید اضافی اور غلط بلوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غلط اور فرضی بلنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے، بلوں میں شامل غیر ضروری یونٹس کی کڑی جانچ پڑتال ہو اور ڈیڈکشن کے عمل کو مکمل شفاف بنایا جائے تاکہ صارفین سکھ کا سانس لے سکیں۔ملاقات کے اختتام پر سیپکو افسران نے تاجر رہنماؤں کو شدید عوامی دباؤ کے پیش نظر یقین دہانی کرائی کہ صارفین کی تمام جائز شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، اضافی بلنگ کی چھان بین کر کے فوری تصحیح کی جائے گی اور تاجر برادری کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

