تہران/بغداد:
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے ایک نیا "سات روزہ منصوبہ” پیش کیا ہے۔ ایرانی میڈیا اور سفارتی ذرائع کے مطابق اس جامع پلان کا مقصد خطے کو جنگی صورتحال سے نکالنا اور فریقین کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق اس سات روزہ لائحہ عمل کی تفصیلات کچھ یوں ہیں: اگر امریکہ اس تجویز کے تحت ایران کی معینہ شرائط تسلیم کر لیتا ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے، تو طے شدہ شیڈول کے مطابق چھٹے روز آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اس پلان کے ساتویں روز فریقین کے درمیان باضابطہ اور براہِ راست سفارتی مذاکرات کا آغاز ہو گا، جس سے خطے میں دیرپا استحکام کی امید وابستہ کی جا رہی ہے۔ تہران کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ تجویز اب بھی میز پر موجود ہے اور ایران سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے کا خواہاں ہے۔ تاہم، ایرانی حکام نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ، دکھیموں یا جارحیت کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا اور اپنے دفاع و سلامتی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔دوسری جانب، امریکہ یا فریقِ ثانی کی طرف سے اس سات روزہ تجویز پر باضابطہ حتمی رضامندی یا معاہدے کا تاحال کوئی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم ثالثوں کے ذریعے رابطے کا سلسلہ جاری ہے۔

