ریاض: سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کے باعث فضائی سفر متاثر ہونے کے بعد ملک سے باہر جانے کیلئے نجی طیاروں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں بعض چارٹر پروازوں کے کرائے 50 فیصد سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ ریاض کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں میں تعطل کے باعث امیر مسافر، کاروباری شخصیات اور غیر ملکی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار متبادل سفری انتظامات کر رہے ہیں۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نجی طیارے فراہم کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے روانگی کیلئے طیاروں کی دستیابی محدود ہونے اور جنگی خطرات کے باعث انشورنس کے اخراجات بڑھنے سے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے ریاض کے شمال میں واقع القصیم ایئرپورٹ سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا جانے والے 14 نشستوں کے بمبارڈیئر گلوبل 6000 طیارے کی ایک پرواز 94 ہزار یورو میں بک ہوئی، جبکہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش سے پہلے اسی نوعیت کی پرواز کا کرایہ تقریباً 60 ہزار یورو تھا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق 10 اکتوبر کو حوثیوں کے حملوں کے بعد ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا۔ فضائی سفر کے اعدادوشمار فراہم کرنے والی کمپنی سیریم کے مطابق حملوں کے آغاز سے سعودی ہوائی اڈوں سے روانہ ہونے والی 5 ہزار 500 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں۔
ہوائی اڈے کی بحالی کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کی پروازیں اب بھی متاثر ہیں۔ جرمن ایئرلائن لفتھانزا اور اٹلی کی آئی ٹی اے ایئرویز سمیت کئی کمپنیوں نے سعودی عرب کیلئے اپنی خدمات معطل یا محدود کی ہیں۔
ریاض سے نکلنے کے خواہشمند بعض مسافر شہر سے 200 میل سے زیادہ دور واقع القصیم ایئرپورٹ پہنچ رہے ہیں، جہاں سے نجی اور بعض کمرشل پروازیں دستیاب ہیں۔
دوسری جانب نجی طیاروں کے اخراجات برداشت نہ کرسکنے والے بعض مسافر بحرین اور قطر کے راستے اپنی منزلوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نجی طیاروں کی بکنگ سے وابستہ کمپنی انٹر جیٹس کے بانی چارلس رابنسن کے مطابق سعودی عرب سے یورپ جانے والی بعض چارٹر پروازوں کے کرائے ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات جانے کیلئے نجی طیاروں کے کرائے 30 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان بتائے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خطرات کے باعث متعدد فضائی آپریٹرز متاثرہ علاقوں میں خدمات فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے دستیاب طیاروں کی تعداد کم اور کرایوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگی خطرات کی انشورنس بھی مہنگی ہوگئی ہے۔ بعض بڑے نجی طیاروں کیلئے اضافی انشورنس اخراجات 20 ہزار ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ چھوٹے طیاروں کیلئے یہ رقم تقریباً 8 ہزار ڈالر بتائی گئی ہے۔
غیر ملکی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی منتقلی پر غور
فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب میں کام کرنے والی بعض مغربی کمپنیوں نے اپنے اعلیٰ عہدیداروں کو عارضی طور پر دبئی یا آبائی ممالک منتقل کرنے کے امکانات جاننے کیلئے نجی فضائی کمپنیوں سے رابطے کیے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ابھی سعودی عرب سے غیر ملکیوں کی روانگی اس بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہی جو رواں سال کے اوائل میں متحدہ عرب امارات میں علاقائی کشیدگی کے دوران دیکھی گئی تھی۔
فضائی شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے نجی پروازوں کی طلب بڑھنے کے باوجود مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں میں فضائی سفر کی مجموعی مانگ برقرار ہے۔
سعودی عرب سے جانے کیلئے چارٹرڈ فلائٹس کی مانگ میں اضافہ، کرائے ڈبل ہوگئے

