صنعا+ریاض:یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی صوبہ تعز کے سنامہ اور صراری محاذوں پر انھوں نے پیش رفت کی ہے۔
سرکاری فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی صبح شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے دوران حوثی جنگجوؤں کی پوزیشنوں کو ’بھاری نقصان‘ پہنچایا گیا۔
فوج کے مطابق تعز کے شمال مغربی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے تین فضائی حملے بھی کیے گئے، جبکہ صوبے کے مختلف محاذوں پر لڑائی تاحال جاری ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران لڑائی میں شدت آنے کے باعث دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
آئی او ایم کے مطابق بے گھر ہونے والوں میں خواتین، بچے، بزرگ اور معذور افراد شامل ہیں، جو پہلے ہی گنجان اور غیر محفوظ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں تحفظ سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے
دوسری طرف سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر نجران میں ایک پروجیکٹائل گرنے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق واقعے میں تین رہائشی مکانات اور تین گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کے قریب موجود ملازمین اور شہریوں کو ایک بار پھر انخلا کی وارننگ جاری کی ہے۔
حوثیوں کے عسکری ذریعے نے گروپ کی خبر رساں ایجنسی سبا کو بتایا کہ یہ انتباہ چند روز قبل مشرقی سعودی شہر ظہران میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ملکیت ایک عمارت پر میزائل حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
حوثی ذریعے نے آرامکو کے شیئر ہولڈرز سے بھی اپیل کی کہ وہ ’دیر ہونے سے پہلے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے‘ اپنے حصص فروخت یا واپس لے لیں۔
بیان میں فضائی کمپنیوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ مکہ اور مدینہ کے اطراف کے علاقوں کے علاوہ سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے گریز کریں۔
’’آپریشن ڈان آف یمن’’سرکاری فوج کی تعز محاذ پر پیش قدمی،ڈھائی لاکھ افراد بے گھر،نجران میں میزائل حملہ 6 زخمی،حوثیوں کی سعودی تیل تنصیبات سے انخلا کی نئی وارننگ

