ہنگورجا (رپورٹ: فیاض محسن سولنگی): خیرپور سے کراچی تک نکالے جانے والے ”سندھ دھرتی مارچ“ کا ببرلوئی سے روانگی کے بعد مختلف شہروں میں شاندار استقبال کیا گیا۔ مارچ کے رانی پور پہنچنے پر وکلا، شہریوں اور سندھ سے محبت کرنے والے افراد نے شرکاء کا بھرپور خیرمقدم کیا، جبکہ ہنگورجا شہر میں آمد پر شرکاء پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ اس موقع پر سندھ کی وحدت، بقا، قومی شناخت اور دھرتی سے محبت کے حق میں پُر جوش نعرے لگائے گئے۔سندھ دھرتی مارچ جب رانی پور پہنچا تو شہر میں اس کے استقبال کے لیے والہانہ سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ وکلا کے قافلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے شرکاء نے سندھ سے اپنی محبت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ مارچ میں شامل وکلا کا کہنا تھا کہ سندھ کی وحدت اور سلامتی کا تحفظ ہر سندھی کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے پُرامن جمہوری جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔مارچ کی گمبٹ آمد پر قومی شاہراہ پر سندھ کی وحدت کے حق میں بھرپور نعرے بلند کیے گئے۔ ارشد شر کی قیادت میں سندھ کی تقسیم کی مخالفت اور دھرتی سے اپنی لازوال وابستگی کا بھرپور اظہار کیا گیا۔سندھ دھرتی مارچ کی ہنگورجا آمد پر شہریوں نے قافلے کا شاندار استقبال کیا۔ شرکاء پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور سندھ کی بقا، سلامتی اور قومی وحدت کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ ہنگورجا کے شہریوں نے بھی جوش و خروش سے نعروں کا جواب دے کر سندھ سے اپنی محبت کا ثبوت دیا۔ اس موقع پر معروف وکیل رہنما عامر نواز وڑائچ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”سندھ ہماری ماں ہے اور سندھ کی وحدت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔“ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ کی تاریخی حیثیت، ثقافت، زبان، وسائل اور قومی شناخت کا تحفظ اہلِ سندھ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی کسی بھی سازش یا کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ خیرپور سے شروع ہونے والا یہ دھرتی مارچ ببرلوئی، رانی پور، گمبٹ اور ہنگورجا سے گزرتا ہوا اپنی حتمی منزل کراچی کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔ مارچ کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سندھ کی وحدت اور بقا کا یہ پرامن پیغام صوبے کے ہر کونے تک پہنچایا جائے گا۔
ہنگورجا میں سندھ دھرتی مارچ کا شاندار استقبال، وکلا کے قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور، سندھ کی وحدت کے نعرے گونج اٹھے

