سانگھڑ (رپورٹ: اشفاق سلہری)
کھاہی تھانے کی حدود میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 22 سالہ نوجوان استاد بابر علی ہنگورجو کے ورثاء اور اہلِ علاقہ کا لاش کھاہی عمرکوٹ روڈ پر رکھ کر گزشتہ 18 گھنٹوں سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ نوجوان استاد کے قتل کے خلاف کھاہی کے بعد اب کھپرو میں بھی متاثرین سے اظہارِ یکجہتی اور انصاف کی فراہمی کے لیے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
احتجاجی دھرنے اور مظاہروں کے باعث کھپرو سے میرپورخاص، سانگھڑ اور عمرکوٹ سمیت دیگر علاقوں کی جانب جانے والی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرعام لوٹ مار اور قتل و غارت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں کو شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نوجوان استاد بابر علی ہنگورجو کے قتل میں ملوث سفاک ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوتے، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب، رابطہ کرنے پر ایس ایچ او کھاہی شریف جمالی نے بتایا کہ پولیس کی مختلف ٹیمیں رات سے ہی ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔ ان کے مطابق شک کی بنیاد پر چند افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ کچھ مسروقہ موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی جا چکی ہیں۔مقتول کے ورثاء اور شہریوں نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لے کر ملزمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور علاقے میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔



