سنجھورو (بیورو رپورٹ)
سانگھڑ کی تحصیل سنجھورو میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں دسویں جماعت کی 17 سالہ طالبہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت تینوں نامزد ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دیا ہے۔مقدمہ متاثرہ لڑکی کے بھائی تصور شیخ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق 16 اکتوبر کو اسکول کی چھٹی کے بعد جب طالبہ گلناز شیخ گھر نہیں پہنچی تو اس کا بھائی اور دادا رفیق شیخ اسے تلاش کرنے نکلے۔ مدعی کے مطابق جب وہ جمیل شیخ کے گھر کے باہر پہنچے تو اندر سے گلناز شیخ کے رونے اور چیخنے کی آوازیں آئیں۔ گھر کے اندر جانے پر دیکھا کہ جمیل شیخ طالبہ کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا جبکہ اس کی اہلیہ خوشبو شیخ اور بھائی شکیل شیخ نے طالبہ کو پکڑ رکھا تھا۔متاثرہ طالبہ نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں بتایا کہ وہ اسکول سے گھر جارہی تھی کہ راستے میں ملزمہ خوشبو شیخ نے اسے زبردستی اپنے گھر کے اندر روک لیا، کچھ دیر بعد جمیل اور شکیل بھی کمرے میں آ گئے جہاں اس مکروہ فعل کو انجام دیا گیا۔ طالبہ کی چیخ و پکار پر اس کے بھائی اور دادا موقع پر پہنچ گئے جس پر ملزمان نے اسے چھوڑ دیا۔پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم جمیل شیخ، اس کے بھائی شکیل شیخ اور اہلیہ خوشبو شیخ کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے دونوں مرد ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے جبکہ خاتون ملزمہ خوشبو شیخ کو 14 روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔واقعے کے بعد پولیس نے متاثرہ طالبہ کا فوری طبی معائنہ (میڈیکل) کرا دیا ہے، اور پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی میڈیکل سرٹیفکیٹ جلد موصول ہونے کا امکان ہے جو اس کیس کی تفتیش میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔


