سانگھڑ (اشفاق سلہری)
سانگھڑ کے قریب کھپرو میں تھانہ کھائی کی حدود میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ایک اور نوجوان استاد کو بیددردی سے قتل کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق یہ دلخراش واقعہ عمرکوٹ روڈ پر بھٹ بھائیٹی اسٹاپ کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے مبینہ طور پر موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی۔ نوجوان بابر علی ولد علی غلام ہنگورجو نے جب ڈاکوؤں کی اس حرکت پر مزاحمت کی تو انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نوجوان شدید زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی کھائی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور لاش کو ضروری کارروائی کے لیے تعلقہ اسپتال کھپرو منتقل کر دیا۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جبکہ شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس تیزی سے بڑھنے لگا ہے۔مقامی حلقوں کے مطابق تھانہ کھائی کی حدود میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کے متعدد دلخراش واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کی وجہ سے علاقے میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔شہری حلقوں، سیاسی و سماجی شخصیات نے ایس ایس پی سانگھڑ شاہنواز چاچڑ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:نوجوان استاد بابر علی ہنگورجو کے قتل میں ملوث سفاک ملزمان کو فوری طور پر ٹریس کر کے گرفتار کیا جائے۔علاقے میں پولیس گشت کو مؤثر اور باقاعدہ بنایا جائے۔عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کے مبینہ مقابلوں اور دیگر دعوؤں کے باوجود اگر عام شہری اور پڑھے لکھے لوگ بھی اس طرح محفوظ نہیں ہیں تو محکمہ پولیس کو اپنی حکمتِ عملی اور جرائم کی روک تھام کے اقدامات کا از سر نو مؤثر جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔ عوام نے اعلیٰ ترین پولیس حکام سے اپیل کی ہے کہ تھانہ کھائی کی حدود میں امن و ہان کی بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے لرزہ خیز واقعات کا سدباب ہو سکے۔


