دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں نوجوانوں کی تنظیم ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) کی جانب سے عظیم الشان احتجاج کی کال پرمودی حکومت تناؤ پریشانی کا شکار۔ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے سینکڑوں مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، جبکہ حکام نے دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کرتے ہوئے انٹرنیٹ معطل اور متعدد میٹرو اسٹیشنز بند کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، احتجاج میں شامل ہونے کے لیے آنے والے معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی (Dhruv Rathee) کو بھی دہلی کے باہر سے حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں 200 سے زائد مظاہرین کی گرفتاریوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ اب تک ملک بھر سے 10 ہزار سے زائد افراد کو تحویل میں لیا جا چکا ہے۔احتجاج کی وجہ اور 13 کروڑ ووٹرز کا تنازع”جمہوریت بچاؤ” کا نعرہ لگانے والے اس احتجاج کا آغاز انکشافات پر مبنی ایک رپورٹ کے بعد ہوا، جس کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن کے نائب عہدیداروں نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ اپوزیشن اور مظاہرین کا الزام ہے کہ اس نظرثانی کے دوران تقریباً 13 کروڑ ووٹرز کے نام خارج کر دیے گئے ہیں تاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ تاہم الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان تمام الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔
نئی دہلی میں معطلی اور سخت سیکیورٹینئی دہلی کے اہم احتجاجی مقام ‘جنتر منتر’ کو جانے والے تمام راستوں پر خاردار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ پولیس نے مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ مظاہرے والے علاقے کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ایک پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے آمر حکومت نے پوری راجدھانی کو مفلوج کر کے لاکھوں شہریوں کو تکلیف میں ڈال دیا ہے۔”یاد رہے کہ سال 2027 کے آغاز میں اتر پردیش سمیت کئی اہم ریاستوں کے انتخابات سے قبل یہ مظاہرے نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک نیا اور بڑا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔
نئی دہلی: ‘کاکروچ جنتاپارٹی کا مظاہرہ، یوٹیوبر دھرو راٹھی سمیت ہزاروں مظاہرین گرفتار،250ٹرینیں منسوخ

