نیو دہلی (نیوز ڈیسک):
بھارت میں ووٹر فہرستوں کی حالیہ خصوصی نظر ثانی (Special Intensive Revision – SIR) کے دوران 13 کروڑ (130 ملین) سے زائد شہریوں کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج یا غیر فعال کیے جانے کا معاملہ ایک بڑا سیاسی اور عالمی تنازع بن چکا ہے۔ دنیا کے معتبر خبر رساں اداروں اور عالمی میڈیا نے اسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے انتخابی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔بھارتی اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ (INDIA Bloc) اور کانگریس پارٹی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو "منظم ووٹ چوری” اور جمہوری حقوق پر ڈاکہ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ناموں کے اخراج سے بالخصوص اقلیتوں، مزدوروں اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس معاملے پر دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر سمیت مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔نیویارک ٹائمز اور دیگر بین الاقوامی اخبارات و اداروں نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ بھارت میں آنے والے انتخابات سے قبل اتنے بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹوں میں تبدیلی انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق جمہوری عمل میں تمام شہریوں کی بلا تفریق شمولیت کو یقینی بنانا ہی کسی بھی جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے اپوزیشن کے الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے مطابق 13 کروڑ کا ہندسہ حتمی اخراج (Final Deletion) کا نہیں ہے، بلکہ یہ ڈرافٹ کی سطح پر فوت شدہ، منتقل شدہ اور دوہرے اندراج والے ناموں کی ابتدائی چھانٹی کا حصہ ہے۔الیکشن کمیشن نے عوام اور اپوزیشن کے خدشات دور کرنے کے لیے 20 ریاستوں میں خصوصی تصدیقی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ غلطی سے خارج ہونے والے کسی بھی حقیقی ووٹر کا نام دوبارہ فہرست میں شامل کیا جا سکے۔

