غزہ / نیوز ڈیسک: اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے علاقے غزہ میں جاری بدترین جارحیت اور نسل کشی کی مہم کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں رونما ہونے والی تباہی و بربادی کے ہولناک اور دل دہلا دینے والے اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں۔ گذشتہ 3 سالوں کے دوران مسلسل بمباری اور زمینی کارروائیوں میں ہزاروں بے گناہ فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زائد تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ ریسکیو اداروں کے مطابق ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو نکالنا تاحال ممکن نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے واقعی شہادتوں کی تعداد کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ غزہ کے بیشتر شہر، رہائشی بلاکس، ہسپتال، تعلیمی ادارے اور مساجد مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ شدید فضائی و زمینی حملوں کے باعث غزہ کا شہری بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے پینے کے صاف پانی، بجلی اور مواصلات کا نظام بالکل مفلوج ہے۔ اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے غزہ میں خوراک، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کا ایک بڑا حصہ قحط کی لپیٹ میں ہے اور بنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ لاکھوں افراد عارضی خیمہ بستیوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو جنگی جرائم اور کھلی نسل کشی قرار دیا ہے۔ عالمی سطح پر احتجاج اور مذمت کے باوجود فوری اور مسلسل جنگ بندی قائم نہ ہونے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی طاقتوں کے دہرے معیار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی جارحیت کے 3 سال مکمل: غزہ کھنڈر بن گیا، ہزاروں شہید، انسانی بحران شدید تر

