الیکشن کمیشن تک اپوزیشن مارچ (6 اکتوبر): I.N.D.I.A اتحاد کے سینکڑوں ارکانِ پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے دفتر تک احتجاجی مارچ کیا تاکہ ووٹر فہرستوں سے نام منہا کرنے اور انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا جا سکے۔کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر غیر جانبداری برقرار نہ رکھنے اور حکمراں جماعت کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس نے 25 اکتوبر سے 25 نومبر 2026 تک ایک ماہ طویل ملک گیر مہم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ضلع اور ریاست کی سطح پر "سیف ڈیموکریسی مارچ” اور احتجاجی جلسے کیے جائیں گے۔اس تحریک کو مزید وسعت دینے کے لیے 1 نومبر کو نئی دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں ایک مشترکہ ریلی منعقد کی جائے گی، جس میں اپوزیشن اتحاد کے تمام اہم ترین رہنما شرکت کریں گے۔اپوزیشن قیادت جلد ہی صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کی درخواست کر کے جمہوریت کی بحالی اور انتخابی شفافیت سے متعلق اپنے خدشات پیش کرے گی۔اپوزیشن رہنماں کا موقف ہے کہ حقِ رائے دہی کی حفاظت جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہے اور اس معاملے پر عوامی بیداری کے لیے ملک بھر میں جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
کانگریس کا ‘ووٹ چوری’ کے خلاف ملک گیر مہم کا اعلان، اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا مارچ

