پشاور / اسلام آباد:خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قافلوں اور سیاسی اجتماعات کے حوالے سے انتہائی تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ باخبر سکیورٹی ذرائع کے مطابق، سیاسی قافلوں اور دنگے فساد کی آڑ میں کالعدم تنظیم ‘فتنہ الخوارج’ کے دہشت گردوں کے شامل ہونے کے مصدقہ خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کی چند خطرناک تشکیلوں کے دہشت گرد مکین، جنوبی وزیرستان اور مالاکنڈ کے مختلف علاقوں سے بھیس بدل کر پی ٹی آئی کے قافلوں کے اندر گھس چکے ہیں۔ یہ عناصر سیاسی کارکنوں کے ہجوم اور احتجاجی جلوسوں کا ڈھونگ رچا کر ملک کے مختلف حصوں میں بڑی دہشت گرد کارروائیاں کرنے کی گھناؤنی سازش تیار کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان چھپے ہوئے دہشت گردوں کا بنیادی ہدف زیادہ ہجوم والی جگہیں، سیاسی اجتماعات اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں مزید انتشار، انارکی اور عدم استحکام پھیلانے کے لیے کسی بھی بڑے سیاسی اجتماع یا جلسے کو بھی خون میں نہلانے کی گھناؤنی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں نے ان رپورٹس کے بعد صوبے بھر میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کر دیے ہیں اور قافلوں میں شامل افراد کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی ہے تاکہ دشمن عناصر کی کسی بھی مذموم سازش کو کامیاب ہونے سے روکا جا سکے۔
تحریک انصاف کے قافلوں میں ‘فتنہ الخوارج’ کے دہشت گردوں کی موجودگی کا انکشاف،سیکیورٹی ہائی الرٹ

