ممبئی:بھارتی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں مودی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ایک انتہائی بڑا اور طاقتور احتجاجی مارچ نکالا گیا ہے۔
اس احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں روایتی حریف سمجھے جانے والے سیاسی رہنما راج ٹھاکرے اور uddhav Thackeray (ادھو ٹھاکرے) نے متحد ہو کر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن کی پالیسیوں کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
Gyanesh Kumar is Dhurandar in BJP 🤔 https://t.co/lTDnBb5ytn
— Dharmesh Dixit (@theDDixit) October 4, 2026
ممبئی کے مصروف ترین علاقوں میں ہونے والے اس احتجاجی مارچ میں کانگریس اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کے ریاستی رہنماؤں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ احتجاج کے دوران شرکاء نے سیاسی جھنڈوں کے بجائے صرف قومی ترنگے اٹھا رکھے تھے، جو کہ میٹرو سنیما سے شروع ہو کر ساؤتھ ممبئی میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) کے صدر دفتر تک پہنچا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے الیکشن کمیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن اب ایک آزاد آئینی ادارہ نہیں رہا بلکہ حکمران جماعت بی جے پی کی ایک ذیلی شاخ کے طور پر کام کر رہا ہے۔
راج ٹھاکرے نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے نام پر جو کروڑوں نام خارج کیے جا رہے ہیں، اس پورے عمل کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران چالان اور دھاندلی کے ذریعے زبردستی اقتدار حاصل کیا گیا، اور اب ایس آئی آر کے نام پر لاکھوں جائز ووٹرز کے نام فہرستوں سے نکالے جا رہے ہیں۔ اس احتجاج کے دوران ٹھاکرے برادران نے ای وی ایم (EVM) مشینوں کے بجائے ایک بار پھر بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کا پرزور مطالبہ بھی دہرایا۔

