نیوز ڈیسک: طبی ماہرین نے ولادت کے بعد خواتین میں ہونے والی شدید ذہنی و نفسیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اداسی، اینگزائٹی اور بے بسی کی کیفیت کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ یہ علامات "پوسٹ پارٹم ڈپریشن” (Postpartum Depression) کی نشاندہی کرتی ہیں جن پر بروقت توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی دنوں میں ہارمونز کی تبدیلی کے باعث کچھ حد تک موڈ کا تبدیل ہونا یا ‘بے بی بلیوز’ (Baby Blues) عام بات ہے جو چند دنوں میں خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ تاہم اگر شدید اداسی، چڑچڑاپن، نوزائیدہ بچے میں دلچسپی نہ لینا یا بے بسی کا احساس دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے تو یہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی واضح علامت ہو سکتی ہے۔بلاوجہ رونا، شدید اداسی اور مایوسی نوزائیدہ بچے کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں دشواری شدید جسمانی تھکن اور طبعی طاقت میں مسلسل کمی نیند اور بھوک کے معمولات کا شدید متاثر ہونا خود کو ناکام یا غیر متوازن محسوس کرناماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے خاندان، خصوصاً شوہر کا ہمدردانہ اور تعاون پر مبنی رویہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ متاثرہ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی کیفیات کو چھپانے کے بجائے اپنے گھر والوں سے کھل کر بات کریں، اپنی نیند اور آرام پر توجہ دیں، اور علامات کی شدت کی صورت میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ماہرِ نفسیات یا معالج سے رابطہ کریں۔

