نئی دہلی:بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران آزادی صحافت کے دعووں کو ایک بار پھر تار تار کر دیا گیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹوں میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کی کوریج کرنے والی خواتین صحافیوں کو اس وقت پولیس کا نشانہ بننا پڑا جب ان کے کیمروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کھلم کھلا بربریت اور جارحیت کو بے نقاب کیا۔
متاثرہ تینوں خواتین رپورٹرز کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں نے نہ صرف ان پر جسمانی تشدد کیا اور انہیں ہراساں کیا بلکہ جب وہ اس گھناؤنے واقعے کے خلاف باضابطہ قانونی چارہ جوئی کے لیے تھانے گئیں تو پولیس نے فوری طور پر ایف آئی آر (First Information Report) درج کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
متاثرہ صحافیوں کی جانب سے باضابطہ فوجداری شکایت درج کرانے کی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہوئے پولیس نے معاملے کو اپنے ہی کرائم برانچ کے حوالے کر دیا ہے تاکہ ایک نام نہاد "غیر جانبدار” داخلی تحقیقات کا ڈراما رچا کر اصل ملزمان کو بچایا جا سکے۔
سماجی حلقوں اور میڈیا تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ اس "نئی بھارت” کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے جہاں حکومتی اور ریاستی مشینری کی غنڈہ گردی کو کیمرے میں قید کرنے والی خواتین صحافیوں کے لیے فرائض کی انجام دہی اب ایک جان لیوا اور توہین آمیز امتحان بن چکی ہے۔
احتجاجی مظاہرے کی کوریج کرنے والی خواتین صحافیوں پربھارتی پولیس کا تشدد : ایف آئی آر درج کرنے سے انکار

