تہران:امریکا اور مغربی ممالک کی معاشی پابندیوں اور جاری جنگ کے نتیجے میں ایران کی معیشت شدید ترین زوال کا شکار ہو چکی ہے، جہاں ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایرانی کرنسی اس قدر گر چکی ہے کہ اب ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 27 لاکھ (2.7 ملین) ایرانی ریال تک جا پہنچی ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی ریال اپنی نصف سے زیادہ مالیت کھو چکا ہے جبکہ ملک میں افراط زر کی شرح تقریباً 73 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مرکزی بینک نے اس خطرناک گراوٹ کو روکنے کے لیے ایک بار پھر مارکیٹ میں دو ارب ڈالر تک کی خطیر رقم جھونک دی ہے تاکہ کرنسی کو سنبھالا دیا جا سکے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح مارکیٹ میں ہارڈ کیش جلانے کا حربہ صرف اسی وقت تک کارآمد ہو سکتا ہے جب تک باہر سے نقد یا تیل کی آمدنی جاری رہے، تاہم دسمبر تک ایران کی تیل کی درآمدات و برآمدات صفر پر پہنچنے کے امکانات کے پیش نظر یہ دو ارب ڈالر بھی طویل عرصے تک اس گرتی ہوئی دیوار کو نہیں روک سکیں گے۔
دوسری طرف، معاشی پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والی اسمگلنگ کی بلیک مارکیٹ سے کے اعلیٰ عہدیدار تو طویل عرصے سے فوائد سمیٹ رہے ہیں، لیکن اس معاشی گھیراؤ اور مہنگائی کے اصل ہتھکنڈوں کا خمیازہ جنگ مسلط کرنے والے حکمرانوں سے پہلے عام ایرانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے.
ایرانی معشیت کی تباہی عروج پر: ایک امریکی ڈالر اب کتنےلاکھ ریال کا?

