پشاور رپورٹ: انور زیب خان
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا احتجاجی مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گانڈی چوک سے شروع ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 9 مئی جیسے واقعات کا دوبارہ اعادہ نہیں ہوگا اور کسی کو بھی ایسی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین سیاسی جماعت ہے، اور آئین پاکستان تمام شہریوں کو پرامن احتجاج کا بنیادی حق دیتا ہے۔4 اکتوبر (دوپہر 1:00 بجے): گانڈی چوک (لکی مروت) سے مارچ کا آغاز اور پہلا پڑاؤ کرک میں ہوگا۔5 اکتوبر: مارچ کوہاٹ پہنچے گا۔6 اکتوبر: مارچ پشاور میں داخل ہوگا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ 9 مئی کے واقعات کے ذمہ دار وہ عناصر تھے جنہوں نے "سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی” تھی، اور حکومت دوبارہ ایسے کسی واقعے کو رونما نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہیں، جبکہ پارٹی بانی عمران خان، ان کے اہل خانہ اور کارکنوں کو بنیادی قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔صوبے میں دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی کے خلاف فوجی کارروائیاں اور نقل مکانی دیرپا حل نہیں ہیں۔ ڈرون حملوں اور "ضمنی نقصان” (collateral damage) سے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاق اور صوبے میں ایک ہی صفحے پر ہونے کے باوجود بلوچستان میں امن قائم کیوں نہیں ہو سکا؟ انہوں نے صوبائی پولیس کے لیے خریدے گئے ہتھیاروں کی دستیابی اور موجودہ سکیورٹی پالیسی کی ناکامی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے اعادہ کیا کہ پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے خیبر پختونخوا میں 100 دنوں کے اندر امن بحال کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کی تجاویز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔


