ٹینسی :امریکی ریاست ٹینیسی میں 50 سالہ کرسٹا گیل پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہوگئی اور 2 مرتبہ دوا دیے جانے کے باوجود ان کی موت نہ ہوسکی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولیِن سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جرم کے وقت پائیک کی عمر 18 سال تھی اور اگر سزا پر عمل درآمد ہوجاتا تو ٹینیسی میں 200 سال سے زیادہ عرصے بعد کسی خاتون کو پہلی بار سزائے موت دی جاتی۔
پائیک کو مہلک انجیکشن میں استعمال ہونے والی دوا پینٹوباربیٹل کی پہلی خوراک دی گئی، تاہم وہ زندہ رہیں جبکہ دوسری خوراک دینے کے بعد بھی وہ سانس لیتی رہیں اور ان کے خراٹے لینے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس کے بعد سزائے موت کی کارروائی روک دی گئی۔
کارروائی کے دوران پائیک ہوش میں تھیں اور ایک موقع پر سر اٹھا کر جیل حکام سے اپنے بازو میں تکلیف کے بارے میں سوال کیا۔ آخری گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ ’محبت کے ساتھ‘ اس دنیا سے رخصت ہورہی ہیں اور ’آزاد ہونے کے لیے تیار‘ ہیں۔
پائیک کے وکیل رینڈی سپائیوی نے فوری طبی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد انہیں ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
وکلا کے مطابق پائیک تشویشناک حالت میں ہیں اور انہیں زندگی بچانے والی طبی امداد دی جارہی ہے۔ سپائیوی نے کہا، ’ہمیں اس وقت ان کی صحت یا مستقبل کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ اس وقت زندہ ہیں۔‘
ٹینیسی میں رواں سال یہ دوسری مرتبہ ہے کہ مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ مئی میں ٹونی کیروتھرز کی سزائے موت اس وقت روک دی گئی تھی جب حکام مناسب رگ میں آئی وی لائن قائم کرنے میں ناکام رہے تھے اور انہیں کوئی مہلک دوا نہیں دی گئی تھی۔
سزائے موت کے لیے 2 مہلک انجیکشنز ناکام، امریکی مجرمہ زندہ کیسے بچ گئی؟

