اسلام آباد :وفاقی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سرکاری افسران کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط پوری کرنے کے لیے رواں سال دسمبر تک بعض منتخب اور غیر حساس معلومات شائع کردی جائیں گی۔
سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا کہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثوں کی مکمل تفصیل منظرِعام پر نہیں لائی جائے گی۔
کمیٹی کے ارکان نے اس پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب صدر، وزیراعظم اور دیگر سیاست دان اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر کرنے کے پابند ہیں تو سرکاری افسران کو مختلف سہولت کیوں دی جارہی ہے؟
سیکریٹری خزانہ نے اس اعتراض کا براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وسیع تکنیکی تیاری کی ہے۔
نئے نظام کے تحت ایف بی آر افسران کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا جائزہ لے گا اور اپنی رپورٹ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ارسال کرے گا۔ اثاثوں کی تفصیلات میں کوئی تضاد یا بے ضابطگی سامنے آنے کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن متعلقہ افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کرسکے گا۔
حکومت نے تمام وفاقی سرکاری افسران کے اثاثوں اور آمدن کے گوشوارے جمع کرانے کا عمل ڈیجیٹل بنانے کا آغاز کردیا ہے۔ گریڈ 17 اور اس سے بالاتر افسران اب دستی طور پر گوشوارے جمع کرانے کے بجائے ایف بی آر کے خصوصی آن لائن پورٹل کے ذریعے معلومات فراہم کریں گے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یادداشت کے مطابق یہ ڈیجیٹل نظام سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 15-اے اور سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے قاعدہ 12 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔
تمام متعلقہ افسران کو مالی سال 2025-26 کے اثاثوں اور آمدن کے گوشوارے 30 اکتوبر 2026 تک آن لائن جمع کرانا ہوں گے۔
پورٹل پر اکاؤنٹ بنانے کے لیے افسران اپنے نام، عہدے، فعال ذاتی ای میل، موبائل فون نمبر اور قومی شناختی کارڈ کی معلومات متعلقہ کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو فراہم کریں گے۔ یہ معلومات ایف بی آر کو بھیجی جائیں گی، جس کے بعد متعلقہ افسر کو ای میل، ایس ایم ایس یا کسی دوسرے مقررہ ذریعے سے اکاؤنٹ بننے کی اطلاع دی جائے گی۔
افسر اپنے قومی شناختی کارڈ نمبر اور ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پاس ورڈ کے ذریعے اکاؤنٹ فعال کرکے ذاتی پاس ورڈ مقرر کرسکیں گے۔ پورٹل میں موجود ’’ڈیکلریشن‘‘ کے آپشن کے ذریعے آمدن اور اثاثوں کی مطلوبہ معلومات درج کرنا ہوں گی۔
ایف بی آر ان معلومات کی خطرات پر مبنی جانچ کرے گا اور نتائج متعلقہ کیڈر ایڈمنسٹریٹر تک پہنچائے گا۔ گوشواروں کے صرف غیر حساس اور منتخب حصے عام شہریوں کی آگاہی کے لیے ایف بی آر کی ویب سائٹ پر شائع کیے جائیں گے۔
جمع کرائی گئی معلومات میں کسی غلطی کی اصلاح 30 نومبر 2026 تک ممکن ہوگی، تاہم اس کے لیے متعلقہ کیڈر ایڈمنسٹریٹر کی منظوری یا اجازت درکار ہوگی۔
”سیکیورٹی تحفظات“، IMF کی شرط کے باوجود بیوروکریٹس کے اثاثے پبلک نہ کرنے کا فیصلہ

