اسلام آباد :وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں ڈرونز ذخیرہ اور لانچ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے
پاکستان کے وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعرات کی صبح سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں آپریشن غضب للحق کی اپ ڈیٹس شیئر کیں۔ان میں بتایا گیا کہ پاکستان افغانستان کی جانب سے کی گئی دانستہ اور غیرقانونی دراندازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے اپنے دفاع اور خود مختاری کے قانونی حق کے تحت افغانستان میں 10 ایسے مقامات کو درستی کے ساتھ نشانہ بنایا جہاں سے ڈرونز ذخیرہ اور لانچ کیے جا رہے تھے۔
بیان کے مطابق پاکستان کئی بار سے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی سے افغان حکومت کو آگاہ کرتا اور ان پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔
پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے بجائے افغان طالبان کی حکومت نے پاکستان کے خلاف ڈرونز استعمال کر کے صورت حال کو مزید کیا۔ان کے مطابق پاکستان کے دفاعی نظام نے ڈرونز کا بروقت پتہ لگایا اور مقررہ اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی تباہ کر دیا۔
Update-Ghazab lil Haq
Islamabad, 24 September 2026;
Pakistan condemns in the strongest possible terms the deliberate and unlawful incursion into Pakistan by drones on 23 September 2026, launched from Afghan territory. This constitutes a blatant violation of Pakistan’s…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) September 24, 2026
وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان سالہا سال سے افغان طالبان حکومت اور ان کے متعلقہ افراد کے سامنے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہم گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس پر شدید تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
ان کے بقول ان نیٹ ورکس کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات اٹھانے کے بجائے افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے خلاف ڈرون کارروائیاں کر کے صورتحال کو مزید بگاڑنے کا راستہ چنا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ائیر ڈیفنس سسٹم نے ان تمام حملہ آور ڈرونز کا بروقت پتہ لگایا، انہیں ٹریک کیا اور ان کے مقررہ ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں کامیابی سے تباہ کر دیا، جس سے یہ ممکنہ حملہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے آئینی و بین الاقوامی حقِ دفاعِ کے استعمال کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جواب میں افغانستان کے اندر ان دس مخصوص مقامات پر انتہائی درست نیوی گیشن سے لیس فضائی اور ڈرون حملے کیے جنہیں ان ڈرونز کو لانچ کرنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
The video shows one of the impacts of Pakistani airstrikes on an Afghan Taliban military headquarters.
Pakistan targeted compounds, drone hubs, ammunition depots and several Taliban positions across Afghanistan last night. pic.twitter.com/AXuiFPiJjs
— Zard si Gana (@ZardSi) September 24, 2026
ان کے مطابق یہ جواب انتہائی نپا تلا، متناسب اور صرف انہی فوجی اہداف تک محدود تھا جو براہ راست پاکستان پر کیے گئے ان حملوں سے جڑے ہوئے تھے۔
وزیرِاطلاعات نے افغان طالبان کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے خلاف افغان حد سے ہونے والے کسی بھی حملے کو، چاہے وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ہو یا خود افغان طالبان حکومت کی طرف سے، ہرگز برادشت یا قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور حتمی جواب دیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے دھمکیاں، انکار یا ذمہ داری سے بھاگنے کی کوششیں نہ تو حقائق کو بدل سکتی ہیں اور نہ ہی پاکستان کو اپنی حدود، عوام اور قومی سلامتی کا دفاع کرنے سے روک سکتی ہیں۔
پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر پاکستان کے خلاف تمام معاندانہ سرگرمیاں بند کرے اور افغان سرزمین سے فعال تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر، عملی اور مسلسل اقدامات کر کے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان خطے میں تنازعات کا پھیلاؤ نہیں چاہتا اور علاقائی امن، مکالمے اور مثبت رابطوں کا پابند ہے، لیکن اس عزم کو ہماری کمزوری یا ناقابلِ برداشت اقدامات پر صبر سے تعبیر نہ کیا جائے، اور اگر افغان طالبان نے آئندہ کوئی اشتعال انگیز قدم اٹھایا تو اس کا جواب مزید سخت اور حتمی ہوگا۔

