واشنگٹن:امریکا کی اندرونی اور عسکری سیاست میں اس وقت طوفان برپا ہو گیا جب حکمران جماعت ریپبلکن پارٹی کے ہی ایک باغی رکن کانگریس تھامس میسی نے منگل کے روز وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ (Pete Hegseth) کو عہدے سے برطرف کرنے کے لیے باضابطہ طور پر ایک بل پیش کر دیا۔
اس قدم کو ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس کے مابین جنگی اختیارات کے تنازع میں ایک انتہائی ڈرامائی اور خطرناک موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
ویب سائٹ "ایگزیوس” کی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی اکثریت کی وجہ سے اس بل کے کامیابی سے منظور ہونے کے امکانات محدود ہیں، تاہم اس قرارداد کو ایک ترجیحی بل (Privileged Bill) کے طور پر خاص قانونی حیثیت حاصل ہے۔ اس ضابطے کے تحت ایوان کو مجبورا اس پر بحث کرنا ہوگی، جس سے تمام ریپبلکن ارکان کو ایک ایسے کڑے ووٹ کا سامنا کرنا پڑے گا جو براہِ راست وزیر دفاع کی جانب سے ایران میں جنگ کے انتظام اور طریقہ کار سے جڑا ہوا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تھامس میسی نے یہ بل پیش کرنے سے قبل اپنی ہی پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔
وزیر دفاع کے خلاف عزل کے 8 سنگین نکات
پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف پیش کیے جانے والے اس بل میں 8 اہم نکات شامل ہیں، جن میں سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کانگریس کے آئینی اختیارات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ایران کے خلاف "غیر قانونی جنگ” جاری رکھنے کے احکامات صادر کیے اور قانون ساز ادارے کی نگرانی کی صلاحیت کو سبوتاژ کیا۔ میسی نے ایوان میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہیگسیتھ نے وزیر دفاع کے منصب کے شایانِ شان کردار ادا نہیں کیا اور وہ ذمہ داریوں کے تقدس پر پورا نہیں اترے۔
یہ تنازع صرف ایران تک محدود نہیں ہے بلکہ اس قرارداد کے دائرہ کار میں وینزویلا اور یمن میں امریکی فوجی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ الزامات کے متن کے مطابق ہیگسیتھ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کا باعث بننے والی عسکری کارروائیوں کے لیے غیر قانونی ہدایات جاری کیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اپریل میں ڈیموکریٹک ارکان نے بھی وزیر دفاع کو ہٹانے کی کوشش کی تھی، مگر موجودہ اقدام کی سیاسی اہمیت اس لیے دوچند ہے کیونکہ یہ خود ایک ریپبلکن رکن کی طرف سے اٹھایا گیا قدم ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اور پارٹی کے اندر موجود جنگ مخالف دھڑے کے درمیان یہ تصادم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ پہلے ہی ایران کی جنگ اور اس کے معاشی اثرات کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ اگرچہ ریپبلکن قیادت اس قرارداد کو براہِ راست ووٹنگ میں جانے سے روکنے کے لیے اسے معطل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن اس اقدام نے ٹرمپ حکومت کی جنگی پالیسیوں کے خلاف حکمراں جماعت کے اندر ہی ایک نیا اور سخت سیاسی محاذ کھول دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا: وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے کا بل پیش، ایگزیوس

