سعودی عرب کے مختلف مقامات پر حوثیوں کے حملے کے تناظر میں مکہ مکرمہ میں پہلی بار فضائی حملے کے خطرے کا الرٹ جاری کردیا گیا۔یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا: ’اس دشمن ڈرون کو مکہ المکرمہ کے جنوب میں روکا گیا۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ’مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے۔عسکری اتحاد کے ترجمان نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے دنیا بھر سے مکہ میں آنے والے لاکھوں مسلمان زائرین میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی ہے۔
میجر جنرل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے 27 جولائی 2017 کو بھی بیلسٹک میزائل کے ذریعے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔انھوں نے لکھا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان حوثی ملیشیا اور اس کے دہشت گردانہ رویے کے خلاف ضروری اقدامات کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ الرٹ سعودی سول ڈیفنس نے جاری کی ہے جس میں مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ فضائی خطرے کے حوالے سے ہنگامی الرٹس جاری کیے تاہم کچھ ہی دیر بعد مکہ مکرمہ میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کردیا گیا۔سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری الرٹ میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔ جس کے بعد حوثیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں پر تشویش مزید بڑھ گئی۔
دوسری طرف حوثی باغیوں نے ایسے کسی حملے سے انکار کیا ہےخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں کے ایک عہدیدار نے سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حوثیوں نے مکہ کی جانب ڈرون داغا جسے مار گرایا گیا۔
روئٹرز نے حوثیوں کے زیر انتظام سبا نیوز ایجنسی کے حوالے سے محمد الفرح کا بیان شائع کیا۔
محمد الفرح حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن ہیں۔ انھوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اس الزام کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔
مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کا الرٹ ، حرم کی تاریخ کا پہلا ہنگامی فضائی الرٹ ہے!


