یروشلم:بین الاقوامی فلمی میلے میں تاریخی پذیرائی حاصل کرنے والی ایک دستاویزی فلم نے اسرائیل میں ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں ملک کے کلچر منسٹر مکی زوہر نے فلم سازوں یوفال ابراہم (Yuval Abraham) اور راچیل شور (Rachel Szor) کی اسرائیلی شہریت فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان پر ریاست سے غداری کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
” غزہ کے فلسطینیوں کو اسرائیل نے AIکی مدد سے شہید کیا،”فلم ”نازا“ کیلئے 25 منٹ کھڑے ہوکر داد
متنازعہ فلم "نازا” (NAZA) نے حال ہی میں اٹلی کے موقر وینس فلم فیسٹیول میں ڈھائی منٹ (24.5 منٹ) تک جاری رہنے والی طویل کھڑے ہو کر داد (Standing Ovation) سمیٹنے کے بعد جیوری کا خصوصی انعام اپنے نام کیا تھا۔ اس فلم میں اسرائیلی فوج پر یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے غزہ میں دانستہ اور ہدف بنا کر فلسطینی شہریوں کو قتل کیا۔
ایک ہی فلم کے دو بالکل متضاد رخ سامنے آئے ہیں؛ ایک طرف وینس کے اسٹیج پر اسے فنکارانہ فتح اور دنیا بھر کی داد ملی، تو دوسری طرف اپنے ہی وطن میں اس کے خالقوں کی حب الوطنی مشکوک ہو چکی ہے اور سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اب یہ فلم ساز بطور اسرائیلی شہری رہنے کے حقدار بھی ہیں یا نہیں۔ وزیرِ ثقافت کا یہ مطالبہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور ریاستی بیانیے کے تنازع کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر لے آیا ہے۔
غزہ پر فلم بنانے والےیہودی فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کیوں کیا جارہاہے؟

