ٹانک:(کفایت اللہ پراچہ سے)
اسسٹنٹ (BPS-16)
کی بھرتی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر ٹانک جمشید خان نے واضح اور قابلِ تحسین مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھرتیوں کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور قواعد و ضوابط پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی، میرٹ کی خلاف ورزی یا غیر قانونی لین دین کی شکایت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ اگر کسی امیدوار سے بھرتی کے سلسلے میں رقم یا کسی قسم کی غیر قانونی ڈیمانڈ کی جاتی ہے تو وہ خاموش رہنے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کرے۔انہوں نے امیدواروں پر زور دیا کہ اگر کسی کے پاس رشوت یا غیر قانونی لین دین کے حوالے سے قابلِ تصدیق ثبوت، دستاویز، آڈیو، ویڈیو یا دیگر شواہد موجود ہوں تو انہیں متعلقہ فورم پر پیش کیا جائے، تاکہ معاملے کی شفاف تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں اور الزام ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ڈپٹی کمشنر جمشید خان کا یہ دوٹوک اور اصولی مؤقف نہ صرف میرٹ کے تحفظ کی ضمانت ہے بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی کی جانب بھی ایک مثبت قدم ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اس عزم کو سراہا جا رہا ہے کہ سرکاری ملازمتیں کسی سفارش، دباؤ یا مالی لین دین کے بجائے صرف اور صرف اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر دی جانی چاہئیں۔
ان شاء اللہ اسسٹنٹ (BPS-16) کی بھرتی کا عمل مکمل شفافیت، غیر جانب داری اور میرٹ کے اصولوں کے مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
میرٹ کی حفاظت، شفافیت کا فروغ اور عوام کے اعتماد کا تحفظ — یہی ایک ذمہ دار انتظامیہ کی پہچان ہے۔

