اگر آپ سونے سے پہلے دس منٹ تک اس روٹین پر عمل کرتے ہیں، تو آپ کو بہت اچھی نیند آئے گی۔ جانیں کیسے
نیند صرف جسم کو آرام دینے کا ذریعہ نہیں ہے۔ یہ دن بھر متحرک رہنے اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ آج کل، بہت سے لوگوں کو بستر پر جانے کے بعد بھی نیند آنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طبی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں 46 فیصد سے زیادہ لوگ چھ گھنٹے سے بھی کم سوتے ہیں، جو کہ کافی نہیں ہے۔ نتیجے کے طور پر، صبح کے وقت تھکن محسوس ہونا، مسلسل چڑچڑاپن، کسی کام پر دھیان نہ لگا پانا اور سردرد جیسے مسائل آہستہ آہستہ ہماری زندگی پر برا اثر ڈالتے ہیں۔
بہتر نیند حاصل کرنے کے لیے آپ کو اپنے طرزِ زندگی میں بہت بڑی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس سونے سے پہلے 10 منٹ کی ایک آسان روٹین اپنا کر آپ اپنی نیند کے معیار کو کافی حد تک بہتر بنا سکتے ہیں۔ آئیے، 10 منٹ کی اس آسان مشق پر نظر ڈالتے ہیں جو آپ کو جلدی سونے میں مدد کرے گی۔
اچھی نیند کے لیے تیاری کرنا ضروری کیوں؟
ہمارا جسم ایک قدرتی اندرونی گھڑی کے مطابق کام کرتا ہے جسے ‘سرکیڈین ریدم’ کہتے ہیں۔ یہ گھڑی طے کرتی ہے کہ ہمیں کب جاگنا چاہیے اور کب سونا چاہیے۔ کچھ عادات، خاص طور پر رات کے وقت روشنی کا سامنا کرنا اور موبائل فون کا استعمال، جسم کی اس قدرتی ترتیب کو بگاڑ دیتی ہیں۔ نتیجے کے طور پر، دماغ کو یہ بتانے والا سگنل کہ ‘رات ہو گئی ہے اور سونے کا وقت ہو گیا ہے’ مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ پاتا۔ اسی لیے سونے سے پہلے جسم اور ذہن دونوں کو نیند کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔
بہتر نیند کے لیے 10 منٹ کی روٹین
- ایک اور دو منٹ کے لیے روشنی کم کرنا: سونے کی تیاری کے ابتدائی دو منٹوں میں آپ کو مین لائٹس بند کر دینی چاہئیں اور کم روشنی والی جگہ پر رہنا چاہیے۔ جسم میں میلاٹونین اسی وقت بنتا ہے جب روشنی کم ہوتی ہے۔ ہلکی روشنی دماغ کو واضح اشارہ دیتی ہے کہ اب آرام کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔
- تین اور چار منٹ کے لیے ڈیجیٹل اسکرین کو الوداع کہیں: موبائل فون، ٹی وی اور لیپ ٹاپ سے نکلنے والی نیلی روشنی نیند کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ سونے سے پہلے بلاوجہ سوشل میڈیا چلانا یا خبریں دیکھنا دماغ کو متحرک کر دیتا ہے اور نیند آنے میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی نیند کے لیے بیڈ روم میں موبائل فون کا استعمال نہ کرنا ہی سب سے بہتر ہے۔
پانچ سے چھ منٹ تک سانس لینے کی مشق کریں: اگلے دو منٹ تک دھیرے دھیرے اور گہری سانس لینے کی مشق کرنا سب سے بہتر ہے۔ اس سے اعصابی نظام پرسکون ہوتا ہے اور تناؤ کم ہوتا ہے۔ چار سیکنڈ تک سانس اندر لیں، چار سیکنڈ تک سانس روک کر رکھیں اور چار سیکنڈ تک دھیرے دھیرے سانس باہر چھوڑیں۔ چھاتی سے ادھوری سانس لینے کے بجائے، گہری سانس اندر لینے کی مشق کریں، پھر آہستہ آہستہ سانس باہر چھوڑیں۔ - سات اور آٹھ منٹ کی سٹریچنگ: دن بھر کام کرنے کے بعد، آپ کا جسم (خاص طور پر گردن اور کندھے) اکڑا ہوا اور تھکا ہوا محسوس ہو سکتا ہے۔ آپ دھیرے دھیرے اپنی گردن گھما سکتے ہیں، کندھوں کو سٹریچ کر سکتے ہیں یا ‘چائلڈز پوز’ جیسی آسان سٹریچنگ کر سکتے ہیں۔ پٹھوں کا تناؤ کم کرنے سے جسم کو آرام ملتا ہے اور قدرتی طور پر نیند آتی ہے۔
- آخری دو منٹ میں یہ کریں: آخر میں، اپنے ہاتھوں اور پیروں کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیں، انہیں تناؤ میں نہ رکھیں۔ اپنے جسم کو ہلکا محسوس ہونے دیں۔ اپنی آنکھیں بند کریں اور من ہی من اپنے جسم کو محسوس کریں، اپنا دھیان سر، کندھوں اور کمر سے لے کر پیروں کی انگلیوں تک لے جائیں۔ ایسا کرنے سے آپ کا جسم پرسکون ہوگا اور آپ کو جلدی نیند آ جائے گی۔
رات میں نیند میں خلل ڈالنے والی عادات کیا ہیں؟
ہماری کچھ چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہماری نیند کو کافی حد تک متاثر کر سکتی ہیں۔ رات میں ان چیزوں سے بچیں…
- سونے سے پہلے چائے، کافی یا کیفین والے مشروبات پینا
- رات کو دیر سے بھاری کھانا کھانا
- شراب نوشی کرنا
- بے ترتیب وقت پر سونا
اچھی نیند کو فروغ دینے والی عادات
- ہر صبح کچھ وقت دھوپ میں گزارنے سے جسم کی قدرتی گھڑی کو باقاعدہ بنانے میں مدد ملتی ہے۔
- دن کے وقت طویل عرصے تک سونے سے بچیں۔
- ہر روز ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت ڈالیں۔
(ڈس کلیمر: یہاں دی گئی صحت سے متعلق معلومات اور تجاویز صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں۔ ہم یہ معلومات سائنسی تحقیق، مطالعے اور طبی و صحت کے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر فراہم کر رہے ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا سب سے بہتر ہوگا۔)

