کھٹمنڈو:دنیا کی بلند ترین اور پرسرار چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والی سائنسی تحقیق سامنے آئی ہے، جس نے دنیا بھر کے ماحولیاتی ماہرین کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق کوہ پیماؤں کی تفریحی سیاحت اور ان کے قدرتی فضلات کی وجہ سے ہمالیہ کے صدیوں پرانے اور دیو ہیکل گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
نیپال میں واقع ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ پر سیزن کے عروج پر ایک عارضی بستی آباد ہو جاتی ہے جہاں تقریبا 1,600 خیمے لگائے جاتے ہیں۔ اتنی شدید سردی اور بلندی پر جسم کو ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) سے بچانے کے لیے وہاں موجود کوہ پیما، شُپرز اور گائیڈز بڑی مقدار میں پانی اور مشروبات کا استعمال کرتے ہیں۔ سائنسی تخمینوں کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں بیس کیمپ پر روزانہ اندازاً 6,000 لیٹر پیشاب براہِ راست گلیشیئر کی برف پر خارج ہوتا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین اور محققین کا کہنا ہے کہ انسانی پیشاب میں موجود حرارت اور کیمیائی اجزا جب برف پر پڑتے ہیں تو اس سے پیدا ہونے والی حرارت کی وجہ سے ہر سیزن میں تقریباً 154 ٹن برف پگھل کر پانی بن جاتی ہے۔
تحقیقاتی حوالوں کے مطابق، اس حوالے سے مشہور گلیشیولوجسٹ ڈاکٹر شالٹن (Dr. Alton Byers) اور دیگر ہمالیائی ریسرچ گروپس کی رپورٹس میں پہلے بھی یہ انتباہ جاری کیا گیا تھا کہ بیس کیمپ پر انسانی سرگرمیوں کا دباؤ گلیشیئرز کے اندرونی درجہ حرارت کو تبدیل کر رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایورسٹ اور دیگر مشہور بلند مقامات پر صفائی اور انسانی فضلات کے نکاسی کا کوئی مستقل اور سخت نظام وضع نہ کیا گیا، تو سیاحوں کی یہ تفریح آنے والے برسوں میں ہمالیہ کے برفانی ذخائر کو شدید ترین خطرے سے دوچار کر دے گی۔
ہمالیہ کے گلیشیئرز پگھلنےکی انوکھی وجہ سامنے آگئی! سیاحوں کا اہم کردار

