تحریر: ڈاکٹر محمد داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

وہ آواز جو آپ کے ساتھ سفر کرتی ہے
اگلے میڈیا انقلاب کی دستک آپ کے کانوں میں سنائی دے رہی ہے
جب دنیا ایک اور اسکرین سے نظریں ہٹانے لگی ہے، پوڈکاسٹ خاموشی سے ہمارے سننے کا انداز بدل رہا ہے—اور پاکستان اردو آڈیو کے اس موقع کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایک زمانہ تھا جب ریڈیو روزمرہ زندگی کا ایک خاموش مگر مستقل ساتھی ہوا کرتا تھا۔ گاڑی میں سفر ہو، بس کا راستہ ہو، دکان پر بیٹھنے کا وقت ہو یا گھر میں صبح کا ناشتہ، ریڈیو کہیں نہ کہیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا تھا۔ خبریں، موسیقی، کرکٹ کی کمنٹری اور مختلف موضوعات پر گفتگو—سب کچھ لوگ سنتے تھے اور ساتھ ساتھ اپنا کام بھی کرتے رہتے تھے۔
پھر ٹیلی وژن آیا اور آہستہ آہستہ ریڈیو کی وہ مرکزی حیثیت ختم ہونے لگی۔ اس کے بعد کمپیوٹر، اسمارٹ فون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کو اسکرینوں سے بھر دیا۔ آج ہم آنکھ کھولتے ہی موبائل دیکھتے ہیں، کام کمپیوٹر پر کرتے ہیں، خبریں اسکرین پر پڑھتے ہیں، تفریح اسکرین پر حاصل کرتے ہیں اور اکثر سونے سے پہلے بھی موبائل کی اسکرین ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
لیکن اسی اسکرین زدہ دنیا میں ایک دلچسپ تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
آڈیو دوبارہ واپس آ رہا ہے۔
مگر اس مرتبہ پرانے ریڈیو کی شکل میں نہیں، بلکہ پوڈکاسٹ کی صورت میں۔
پوڈکاسٹ اب کسی محدود طبقے یا ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کی سرگرمی نہیں رہا۔ خصوصاً مغربی دنیا میں یہ باقاعدہ مین اسٹریم میڈیا کا حصہ بن چکا ہے۔ Edison Research کی Infinite Dial 2026 رپورٹ کے مطابق امریکا میں 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 58 فیصد افراد نے گزشتہ ماہ کسی پوڈکاسٹ کو سنا، جبکہ 45 فیصد ہفتہ وار پوڈکاسٹ سنتے ہیں۔ برطانیہ میں Ofcom کی 2026 کی تحقیق کے مطابق 93 فیصد بالغ افراد ہر ہفتے کسی نہ کسی قسم کا آڈیو مواد سنتے ہیں، جبکہ 16 سے 34 سال کی عمر میں یہ شرح 98 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ بڑے عالمی میڈیا ادارے بھی پوڈکاسٹ کو اپنی صحافت کا حصہ بنا رہے ہیں؛ Reuters بھی عالمی امور، معیشت اور مارکیٹ سے متعلق باقاعدہ آڈیو پروگرام پیش کرتا ہے۔
یہ اعداد و شمار محض پوڈکاسٹ کی مقبولیت نہیں بتاتے، بلکہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ لوگوں کے میڈیا استعمال کرنے کا انداز بدل رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب ویڈیو ہر طرف موجود ہے تو لوگ دوبارہ آڈیو کی طرف کیوں متوجہ ہو رہے ہیں؟
اس کا جواب ہماری بدلتی ہوئی زندگی میں چھپا ہوا ہے۔
آج لوگوں کے پاس مسلسل بیٹھ کر کچھ دیکھنے کا وقت کم ہے، لیکن سفر اور انتظار سمیت زندگی میں ایسے بہت سے وقفے موجود ہیں جنہیں ہم سننے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
صبح گھر سے دفتر جانے کا سفر۔
شام دفتر سے گھر واپسی۔
بس یا ٹرین میں سفر۔
گاڑی چلاتے ہوئے راستہ۔
ورزش کرتے ہوئے وقت۔
شام کی سیر۔
گھر میں کھانا پکانے یا دوسرے کام کرنے کا وقت۔
ہسپتال یا کسی دفتر میں انتظار۔
ان تمام مواقع پر انسان شاید اخبار نہیں پڑھ سکتا، کتاب نہیں پڑھ سکتا اور ویڈیو دیکھنا بھی مناسب نہیں سمجھتا، لیکن وہ سن سکتا ہے۔
یہی پوڈکاسٹ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
اسے ہماری آنکھوں کی ضرورت نہیں۔
ایک شخص اگر روزانہ ایک گھنٹہ دفتر جاتے ہوئے اور ایک گھنٹہ واپس آتے ہوئے سفر کرتا ہے تو وہ ہفتے میں تقریباً دس گھنٹے سفر میں گزارتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ پورا وقت پوڈکاسٹ سننے میں صرف نہیں ہوگا، لیکن یہ ایک بہت بڑا ممکنہ "سننے کا وقت” ضرور ہے، جسے روایتی میڈیا پوری طرح استعمال نہیں کر پاتا۔
پوڈکاسٹ زندگی کو روکنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔
وہ زندگی کے ساتھ چلتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج پوڈکاسٹ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ خبریں، تجزیے، تعلیم، انٹرویوز، تاریخ، سائنس، صحت اور مختلف شعبوں کے ماہرین کی گفتگو سننے کا ایک اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
ایک اور وجہ بھی ہے: اسکرین سے تھکن۔
ہماری زندگی میں اسکرینوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ کام کمپیوٹر پر، رابطہ موبائل پر، خریداری موبائل پر، تفریح موبائل پر، خبریں موبائل پر اور سوشل میڈیا بھی موبائل پر۔ ہماری آنکھیں مسلسل مصروف ہیں۔
ایسے ماحول میں آڈیو ایک عجیب سی آزادی فراہم کرتا ہے۔
آپ اسکرین بند کر سکتے ہیں اور پھر بھی دنیا سے جڑے رہ سکتے ہیں۔
پوڈکاسٹ نے ایک اور اہم چیز بھی واپس لائی ہے جسے مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا نے تقریباً ختم کر دیا تھا: طویل اور بامعنی گفتگو۔
معاشیات، سیاست، طب، سائنس، تاریخ اور عوامی پالیسی جیسے موضوعات کو ہمیشہ تیس سیکنڈ کی ویڈیو میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض معاملات کے لیے پس منظر، دلیل، سوال، جواب اور وضاحت ضروری ہوتی ہے۔
ایک اچھا پوڈکاسٹ کسی ماہر کو 30 یا 45 منٹ دے سکتا ہے کہ وہ کسی پیچیدہ موضوع کو عام فہم انداز میں سمجھائے، جبکہ سننے والا اپنا سفر بھی جاری رکھے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا موقع موجود ہے۔
ہمیں مغرب کی نقل کرتے ہوئے صرف انگریزی پوڈکاسٹ بنانے کی ضرورت نہیں۔
ہمیں ایک مضبوط اردو آڈیو ایکو سسٹم بنانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں کروڑوں لوگ اردو سمجھتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے لیے اردو وہ زبان ہے جس میں پیچیدہ بات بھی آسانی سے سمجھ میں آتی ہے اور زیادہ ذاتی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو پوڈکاسٹ صحت، تعلیم، سائنس، معیشت، تاریخ، ادب، قانون، سماجی مسائل اور عوامی آگاہی کے لیے انتہائی مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
صرف صحت ہی کو لے لیجیے۔
ایک مستند ڈاکٹر اردو میں بچوں کے دمے، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، ویکسینیشن، ڈینگی، غذائیت یا گرمی کی شدید لہر سے بچاؤ کے بارے میں 20 یا 30 منٹ کی گفتگو کر سکتا ہے۔ والدین اسے گھر کے کام کرتے ہوئے سن سکتے ہیں، کوئی شخص دفتر جاتے ہوئے سن سکتا ہے اور طالب علم سفر کے دوران۔
ایسے پروگرام محض تفریح نہیں ہوں گے۔
یہ عوامی صحت کی تعلیم کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتے ہیں۔
خصوصاً ایسے ملک میں جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے طبی غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں، مستند اردو آڈیو عام آدمی تک صحیح معلومات پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہی اصول صحافت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
پاکستان کا ڈیجیٹل ماحول تیزی سے مختصر ویڈیوز، سنسنی خیز سرخیوں اور تیزی سے پھیلنے والی معلومات سے بھر رہا ہے۔ کوئی جملہ سیاق و سباق کے بغیر وائرل ہو جاتا ہے، کوئی دعویٰ تحقیق کے بغیر ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور کسی خبر کی تصدیق ہونے سے پہلے ہی رائے قائم ہو جاتی ہے۔
ایک ذمہ دار اردو پوڈکاسٹ اس رفتار کو کچھ دیر کے لیے روک سکتا ہے۔
وہ پوچھ سکتا ہے:
اصل میں ہوا کیا؟
ثبوت کیا ہے؟
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
قانون کیا کہتا ہے؟
مختلف آراء کیا ہیں؟
اور عام آدمی کو اس معاملے کے بارے میں کیا سمجھنا چاہیے؟
یقیناً صرف پوڈکاسٹ ہونا کسی مواد کو مستند نہیں بنا دیتا۔ ایک پراعتماد آواز بھی غلط معلومات پھیلا سکتی ہے۔ اسی لیے اردو پوڈکاسٹنگ کا فروغ تحقیق، حقائق کی جانچ، صحافتی اصول اور ادارتی ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ ایک اور بڑی مارکیٹ بھی موجود ہے: بیرون ملک مقیم پاکستانی۔
لندن، ٹورنٹو، دبئی، ریاض، میلبورن یا نیویارک میں رہنے والا پاکستانی بھی اپنے ملک کی خبریں، گفتگو، زبان اور ثقافت سے جڑا رہنا چاہتا ہے۔ ایک اردو پوڈکاسٹ اسے یہ رابطہ بہت آسانی سے فراہم کر سکتا ہے۔
یہاں اردو کی طاقت مزید بڑھ جاتی ہے۔
مستقبل شاید ٹیلی وژن، یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور اخبارات کے درمیان کسی ایک کو جیتنے کا نام نہیں ہوگا۔ بلکہ ایک ہی مواد مختلف شکلوں میں دستیاب ہوگا۔ ایک انٹرویو سے مکمل ویڈیو بھی بن سکتی ہے، پوڈکاسٹ بھی، مختصر سوشل میڈیا کلپس بھی، تحریری مضمون بھی اور قابلِ تلاش تحریری متن بھی۔
مصنوعی ذہانت اس عمل کو مزید آسان اور کم خرچ بنا دے گی۔ گفتگو کو تحریر میں تبدیل کرنا، ترجمہ کرنا، سب ٹائٹلز بنانا، طویل گفتگو سے مختصر کلپس نکالنا اور مختلف پلیٹ فارمز کے لیے مواد تیار کرنا پہلے سے کہیں آسان ہو رہا ہے۔
لیکن یہاں احتیاط بھی ضروری ہے۔
مصنوعی ذہانت مواد کی تیاری میں مدد کر سکتی ہے، سچ کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
صحافت، طب اور عوامی معلومات کے معاملات میں انسانی نگرانی، ماہرین کی رائے اور ادارتی ذمہ داری بدستور ضروری رہیں گے۔
پاکستان کو اس لیے صرف "ایک پوڈکاسٹ شروع کرنے” کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔ ہمیں ایک باقاعدہ اردو آڈیو حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ مختصر روزانہ خبری بلیٹن، ماہرین کے انٹرویوز، صحت اور تعلیم کے پروگرام، معاشی تجزیے، سائنس و ٹیکنالوجی کی گفتگو، تاریخ، ادب اور ثقافت کے پروگرام—یہ سب ایک وسیع اردو آڈیو دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں۔
اور ہمیں ایک غلطی سے ضرور بچنا چاہیے: ہر پوڈکاسٹ کو ٹیلی وژن ٹاک شو نہ بنا دیں۔
پوڈکاسٹ بنیادی طور پر سننے کا ذریعہ ہے۔ اس میں اچھی آواز، مضبوط پیش کار، بامعنی سوالات، قابلِ اعتماد مہمان اور سب سے بڑھ کر سننے والے کے وقت کا احترام ضروری ہے۔
ہم نے کئی دہائیوں تک لوگوں کی آنکھوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹیلی وژن ناظرین کے لیے مقابلہ کرتا ہے، یوٹیوب ویوز کے لیے اور سوشل میڈیا اسکرین ٹائم کے لیے۔
شاید اب مقابلہ کسی اور چیز کا ہونا چاہیے:
لوگوں کے کانوں کا۔
لاہور کی ٹریفک میں پھنسا ہوا شخص شاید ایک اور اسکرین نہیں چاہتا۔
بس میں سفر کرتا ہوا طالب علم شاید ایک اور ویڈیو نہیں دیکھنا چاہتا۔
ہسپتال جانے والے ڈاکٹر کے پاس شاید پڑھنے کا وقت نہ ہو۔
گھر میں کام کرتی ہوئی خاتون شاید ٹیلی وژن نہیں دیکھ سکتی۔
لیکن یہ سب سن سکتے ہیں۔
مغرب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آڈیو جدید میڈیا کا ایک اہم اور مقبول حصہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کو اس تجربے سے سیکھنا چاہیے، لیکن اپنا ماڈل خود بنانا چاہیے—ایسا ماڈل جو معتبر ہو، معلوماتی ہو، پاکستانی معاشرے کی ضروریات کو سمجھتا ہو اور سب سے بڑھ کر اردو میں ہو۔
کیونکہ شاید میڈیا کا اگلا بڑا انقلاب ایک اور ٹیلی وژن چینل یا ایک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم نہیں ہوگا۔
شاید وہ صرف ایک اچھا مائیکروفون ہوگا۔
ایک معتبر آواز ہوگی۔
اور ایسی بات ہوگی جسے سننے کے لیے لوگ اپنا وقت دینا چاہیں۔

