لاہور:پنجاب حکومت نے جدید ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے میدان میں ایک اور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے صوبے میں پہلے آرٹی فیشل انٹیلی جنس ہب کا باضابطہ قیام عمل میں لا دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پیفٹک (PITB/PEFTEC) آفس میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اس جدید ترین اے آئی انٹیلی جنس ہب پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ اس سنگِ میل کے ساتھ ہی پنجاب جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو سکیورٹی اور گورننس میں متعارف کرانے والا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب اور تفصیلی بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پاک فوج، کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام سکیورٹی اداروں نے عوام کی حفاظت کے لیے "ون یونٹ” بن کر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ماہ پہلے آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے جو تصورات پیش کیے گئے تھے، وہ آج عملی شکل اختیار کر چکے ہیں، اور اس حب کے قیام سے اضلاع میں آرڈینیشن کمیٹیوں کو ڈیجیٹل الرٹس جاری کرنے میں مدد ملے گی جس سے کسی بھی واقعے کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی اس پر قابو پایا جا سکے گا۔
مریم نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ سخت فیصلوں اور سکیورٹی اداروں کی دن رات محنت کے نتیجے میں پنجاب بھر میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ ماضی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پنجاب کے کئی اضلاع میں دن دہاڑے پانچ پانچ، چھ چھ قتل ہوتے تھے اور منشیات ہر گلی محلے میں نئی نسل کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھی، لیکن اب ریاست کی رٹ پوری طرح قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچے کا علاقہ جو کبھی دہشتگردوں اور جرائم کا گڑھ بن چکا تھا، اب ایک کرائم فری زون بن چکا ہے۔
میرے لیے دو راستے ہیں، اپنی جان بچاؤں یا پنجاب کے 13، 14 کروڑ لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھاؤں۔ تنقید اور کیسز کے خوف سے پیچھے ہٹنا آسان ہے مگر میں نے مشکل راستہ چنا ہے۔ سڑکیں، میٹروز اور ترقیاتی منصوبے تب بے معنی ہیں جب کسی کا جان و مال محفوظ نہ ہو۔ میری ترجیح ہے کہ پنجاب کے… pic.twitter.com/Oz6if8jbcW
— PMLN (@pmln_org) September 5, 2026
سکیورٹی چیک پوسٹوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پہلے چیک پوسٹوں پر حملوں میں درجنوں جوان شہید ہو جاتے تھے کیونکہ دہشتگردوں کے پاس بہتر اسلحہ اور نائٹ ویژن کیمرے ہوتے تھے، تاہم اب جوائنٹ چیک پوسٹوں کو بلٹ پروف، تھرمل اور نائٹ ویژن کیمروں سے لیس کر کے انتہائی مضبوط بنا دیا گیا ہے۔
عوامی نظم و ضبط اور قانون کی عملداری پر بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر بائیک سواروں کے لیے ہیلمٹ کی پابندی اور لاہور میں محفوظ بسنت کا انعقاد مشکل فیصلے تھے، جنہیں کامیابی سے نافذ کیا گیا۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ریڑھی والوں کو اٹھانے کے بجائے انہیں متبادل روزگار کی جگہیں فراہم کی گئیں۔
کرپشن کے معاملے پر دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں کرپشن کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور جہاں بھی 100 روپے کی بھی کرپشن پائی گئی، اسے ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں کو باڈی کیمز لگا دیے گئے ہیں تاکہ ان کی کارکردگی کی براہِ راست نگرانی کی جا سکے۔ اپنے خطاب کے آخر میں مریم نواز نے عزم ظاہر کیا کہ عوام کا جان و مال کا تحفظ ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، اور وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر صوبے کو ایک امن گہوارہ بنانے کے لیے تمام تر اقدامات جاری رکھیں گی۔

