واشنگٹن:پینٹاگون نے انتہائی سخت قدم اٹھاتے ہوئے جوائنٹ سٹاف کے 50 اراکین کے لازمی پولی گراف (لائی ڈیٹیکٹر) ٹیسٹ لے ڈالے ہیں۔
یہ سنسنی خیز کارروائی اس حساس معلومات کے افشا (لیک) ہونے پر اٹھایا گیا ہے جس میں امریکی صحافیوں کو خبر دی گئی تھی کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی فوج کے پاس پیٹریاٹ اور لانگ رینج میزائلوں کے ذخائر انتہائی کم یا ختم ہو چکے ہیں
یادرہےپینٹاگون میں جوائنٹ سٹاف کی کُل تعداد فوجی و غیر فوجی 1500 سے 2,000 افراد پر مشتمل ہے، ۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل (Sean Parnell) نے ان تفصیلات کی براہِ راست تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ محکمہ دفاع خفیہ معلومات کے افشا ہونے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے۔
پولی گراف ٹیسٹ کیا ہے؟
پولی گراف (پولی گراف ٹیسٹ/جھوٹ پکڑنے والی مشین) کے ذریعے معائنہ کیا ہے۔ یہ مشین حرکت قلب بڑھنے بلڈ پریشر اور دیگر طبی علامات کی بنا پر اندازہ لگاتی ہے کہ متعلقہ فرد جھوٹ بول رہا ہے یا نہیں پولی گراف ٹیسٹ کے نتائح کو عدالت تحفظ حاصل ہے اور انہیں تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاہم نیویارک ٹائمز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، اتنے اعلیٰ سطح کے جوائنٹ اسٹاف اہلکاروں کا بڑے پیمانے پر پولی گراف ٹیسٹ امریکی فوجی تاریخ میں ایک بالکل غیر معمولی اور بے مثال قدم ہے۔ تحقیقات میں ملٹری انویسٹی گیٹرز کو شامل کیا گیا ہے تا کہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ آیا ان اعلیٰ عہدیداروں نے میڈیا کو حساس دفاعی معلومات دی تھیں یا ان میں سے کوئی غیر ملکی جاسوس کے طور پر کام کر رہا تھا۔
یہ ” لیک ہنٹ “ نہیں ووٹرز سے سچ چھپانےکی کوشش ہے، NYT
تاہم اصل مسئلہ اس پورے واقعے کے پس منظر اور اس طرزِ عمل کا ہے جس کے تحت پینٹاگون ایک کے بعد ایک حقائق پر پردہ ڈال رہا ہے۔ اسی ہفتے پینٹاگون نے حیرت انگیز طور پر جنگ کے خاتمے کی تاریخ مئی تک ڈال دی، جولائی میں ہونے والی چار مزید ہلاکتوں کو دوسرے کھاتے میں منتقل کر دیا، اور جنرلز کی تحریری مخالفت پر مبنی نوٹسز کو بھی اپنے انٹرنل نیٹ ورک سے ہٹا دیا۔ جب ہر اٹھایا جانے والا قدم ایک ہی حقیقت چھپانے کی کوشش کرے کہ "جنگ توقع سے بہت زیادہ خراب جا رہی ہے”، تو یہ لیک ہنٹ (Leak Hunt) دشمن سے بچنے کے بجائے اپنے ہی ملک کے ووٹرز سے سچ چھپانے کی کوشش دکھائی دینے لگتی ہے۔
پینٹاگون کو خفیہ فوجی راز افشا کرنے والے جاسوس کی تلاش، 50 ارکان کے پولی گراف ٹیسٹ کرا لئے گئے

