لاہور:(اسد مرزا)
پنجاب پولیس کے اندر احتساب کے نظام کو فول پروف اور شفاف بنانے کے لیے ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ (IAB) کی جامع تنظیم نو کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کےمطابق یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس ویژن کے تحت اٹھایا گیا ہے جس کا مقصد پولیس فورس کے اندر کالی بھیڑوں اور کرپٹ عناصر کا سختی سے قلع قمع کرنا ہے۔
آئی جی پنجاب کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں محکمہ جاتی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف IAB کو ایک مرکزی اور انتہائی مؤثر کردار دینے کے لیے متعدد سخت فیصلے کیے گئے ہیں۔ نئے لائحہ عمل کے مطابق، ڈی آئی جی (IAB) اب خود سب انسپکٹرز اور اس سے اوپر کے تمام اعلیٰ رینکس کے افسران کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کا روزانہ کی بنیاد پر ذاتی طور پر جائزہ لیں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ افسران کی بدعنوانی، بدعنوان طرزِ عمل اور دیگر سنگین بے ضابطگیوں سے متعلق انکوائریز اب متعلقہ اضلاع یا فیلڈ یونٹس کو منتقل نہیں کی جائیں گی، بلکہ متعلقہ ریجنل ایس پیز خود ان تمام انکوائریوں کو ذاتی نگرانی میں مکمل کریں گے۔
اس کے علاوہ، ماضی میں جو شکایات "Not Willing to Pursue” (کارروائی نہ چاہنے یا صلح) کی بنیاد پر دبا دی گئی تھیں یا ختم کر دی گئی تھیں، ان تمام فائلوں کو دوبارہ کھولا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر ان پر باقاعدہ محکمانہ تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔ تفتیش سے متعلق دیگر شکایات کو بھی لازمی کارروائی کے لیے براہِ راست ایس پی کی سطح پر مارک کیا جائے گا۔
آئی جی پنجاب نے انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے اے آئی جی انکوائریز کی آسامی بحال کرنے، خالی ریجنل ایس پیز اور ڈی ایس پیز کی اسامیوں پر ترجیحی بنیادوں پر افسران تعینات کرنے اور اس برانچ کے لیے خصوصی فنڈز و بجٹ جاری کرنے کی بھی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تنظیم نو کا بنیادی مقصد آئی اے بی کو مالی اور انتظامی طور پر مکمل خودمختار بنانا ہے تاکہ وہ کسی دباؤ کے بغیر فیلڈ یونٹس کے خلاف آزادانہ طریقے سے کارروائی کر سکے اور پنجاب پولیس میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
پنجاب پولیس انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کی تنظیم نو: پرانی فائلیں بھی کھل گئیں ، افسران کے خلاف شکایات اب ریجنل ایس پیز خود نپٹائیں گے


