اسلام آباد :معروف تجزیہ کار عبداللہ گل نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے افغان طالبان کی جانب سے ایک کھرب ڈالر مالیت کی نایاب معدنیا ت کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے بگرام کا ہوائی اڈہ دوبارہ مانگ لیا ہے۔
عبداللہ گل کے مطابق امریکا نے افغانستان میں نایاب معدنیات (Critical Minerals) کی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے طالبان کی پیشکش کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں بگرام ایئر بیس کا کنٹرول واپس لینے کا مطالبہ بھی سامنے آتا رہا ہے جسے طالبان سختی سے مسترد کر چکے ہیں۔ تاہم ٹرمپ حکومت کے سینئر اہلکار کی جانب سے دوبارہ طالبان حکومت سے بگرام اڈے کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے
فغان عبارتی حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ وہ افغانستان کے معدنی وسائل (جن کی مالیت کا تخمینہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے)، بنیادی ڈھانچے اور تجارت کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔ اس پیشکش کا بنیادی مقصد امریکی پابندیوں میں نرمی اور بیرونِ ملک منجمد افغان اثاثوں کی بحالی تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ (State Department) نے طالبان کی اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ واشنگٹن کا طالبان حکومت کے ساتھ معدنی وسائل کی ترقی کے شعبے میں کسی قسم کے تعاون یا مشغولیت (engagemen طالبان کے زیرِ اثر کان کنی میں سرمایہ کاری سے ان کی سخت گیر پالیسیوں t) کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کو تقویت مل سکتی ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف مواقع پر افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ اسٹریٹجک اہمیت (بالخصوص چین کے قریب ہونے) کے پیشِ نظر بگرام ایئر بیس کا کنٹرول امریکا کے پاس ہونا چاہیے تھا۔ جبکہ طالبان حکام نے بگرام یا کسی بھی دوسرے فوجی اڈے کو امریکا کے حوالے کرنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ بگرام سمیت افغانستان کے تمام فوجی اور شہری اثاثے قومی ملکیت ہیں اور کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایک کھرب ڈالر کی نایاب معدنیات کی پیشکش ٹھکرا دی، اس کی جگہ طالبان سے امریکا نے کیا مانگا؟ عبداللہ گل کا بڑا انکشاف

