لندن / غزہ:برطانوی اخبار ‘دی گارجین’ کی ایک تفصیلی اور تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں اپریل 2024 کے دوران فلاحی ادارے ‘ورلڈ سنٹرل کچن’ (WCK) کے 7 امدادی کارکنوں پر کیا جانے والا فضائی حملہ کوئی اچانک غلطی نہیں تھا، بلکہ یہ اسرائیلی فوج کی ایک باقاعدہ اور متنازع فوجی پالیسی کا حصہ تھا جس کے تحت "تعلق کی بنیاد پر مجرم” قرار دے کر اہداف طے کیے جاتے ہیں۔
گذشتہ ماہ اسرائیلی فوجی پراسیکیوٹر نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس حملے کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں چلائیں گے جس میں تین برطانوی شہریوں (جیمز کربی، جیمز ہینڈرسن اور جان چیپ مین)، آسٹریلوی نژاد زومی فرینکوم، پولینڈ کے ڈیمین فلسطینی سیف الدین ابو طحہ اور دوہری شہریت کے حامل کینیڈین-امریکی جیک فِلکر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے اس واقعے کو چند افسران کی معمولی غلطی قرار دیا تھا اور امدادی کارکنوں پر ہی الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مسلح محافظوں کی خدمات حاصل کی تھیں اور طے شدہ راستے سے انحراف کیا تھا۔
تاہم، گارجین کی جانب سے اسرائیلی فوج کے سینیئر افسران کے انٹرویوز اور اندرونی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سانحہ اسرائیلی فوج کی اس عام پالیسی کی وجہ سے پیش آیا جسے ‘حفلالا’ (Haflala) یا مجرمانہ قرار دینا کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت میدانِ جنگ میں موجود کمانڈرز کو اس بات کا وسیع اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص یا قافلے کو مبینہ طور پر ‘دہشتگرد’ یا اس کے حامی کے طور پر نامزد کر سکیں، خواہ اس کا تعلق محض کسی مشکوک یا مسلح شخص کے ساتھ چند منٹ کی بات چیت یا قربت ہی کیوں نہ ہو۔
اس حملے کا حکم دینے والے ریزرو کرنل نوچی مینڈل (Nochi Mendel) نے اپنے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ امدادی کارکنوں کو صرف اس لیے ہدف بنایا گیا کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر حماس کے مسلح افراد کے ساتھ چند منٹ کا مختصر وقت گزارا تھا (حالانکہ بعد میں یہ فرض غلط ثابت ہوا تھا)۔ کرنل مینڈل کا کہنا تھا کہ "وہ معصوم نہیں تھے کیونکہ وہ حماس سے جڑے ہوئے تھے… اگر ایسی صورتحال دوبارہ سامنے آئی تو میں بالکل وہی کروں گا جو میں نے تب کیا تھا۔” انہوں نے مزید ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر ہلاک ہونے والے ان غیر ملکی امدادی کارکنوں کے قتل کو محض ایک "احمقانہ ضمنی واقعہ” قرار دیا۔
اسرائیلی پراسیکیوٹر کی جانب سے کسی بھی افسر کو سزا نہ دینے کے فیصلے کے بعد برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے "شرمناک” قرار دیا ہے۔ متاثرہ فلاحی ادارے ‘ورلڈ سنٹرل کچن’ نے بھی اس عدلیہ فیصلے کو حقائق کے منافی اور انتہائی توہین آمیز قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت ان کی گاڑیاں واضح طور پر شناخت شدہ اور غیر مسلح تھیں، اور اسرائیلی فوج کے پاس ان کی نقل و حرکت اور شناخت کا مکمل ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود جان بوجھ کر میزائل داغے گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران اس طرح کے قوانین اور ہدایات نے عام شہریوں اور امدادی کارکنوں کی زندگیوں کو انتہائی خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ہزاروں معصوم شہری اور امدادی کارکن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں مگر کسی بھی اسرائیلی فوجی کو جنگی جرائم کے تحت سزا نہیں دی گئی۔
اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر امدادی کارکنوں کو قتل کیا:گارجین کا سنسنی خیز انکشاف

