واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی ریاستہائے متحدہ میں حکومتی کرپشن کے بارے میں شہریوں کے تحفظات گزشتہ 20 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
ایگزیوس نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق معروف ادارے "گیل اپ” (Gallup) کے ایک نئے اور جامع سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں یہ بحران اس وقت شدت اختیار کر چکا ہے جب وفاقی حکومت پر عوامی اعتماد پہلے ہی تاریخی طور پر نچلی ترین سطح پر منڈلا رہا ہے۔
سروے کے اعداد و شمار کے مطابق، 89 فیصد امریکی بالغوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت میں کرپشن وسیع پیمانے پر جڑیں پکڑ چکی ہے۔ یہ شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 پوائنٹس زیادہ ہے، جبکہ 2010 سے 2025 کے دوران یہ تناسب 72 فیصد سے 79 فیصد کے درمیان رہا تھا۔ اس تشویشناک اضافے کی سب سے بڑی وجہ ڈیموکریٹک حامیوں کا رویہ ہے، جن میں کرپشن کا احساس بڑھ کر 91 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ صدر بائیڈن کے دورِ حکومت (2024ء) میں 57 فیصد ڈیموکریٹس نے ایسا ہی خیال ظاہر کیا تھا۔ اس کے علاوہ تقریباً 90 فیصد غیر جانبدار (آزاد) افراد بھی حکومتی بدعنوانی پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کے پہلے ہی سال میں 2.2 ارب ڈالر سے زائد کی آمدنی حاصل کی، جس میں ان کے روایتی کاروباری ہولڈنگز اور کرپٹو کرنسی کا کاروبار شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات سے جڑی ایک انویسٹمنٹ فرم کی جانب سے ٹرمپ کے مین کرپٹوفرم کا نصف حصہ خریدنے پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے الزامات بھی سامنے آئے۔ اس کے علاوہ، کانگریس کے اراکین اور ڈیموکریٹس نے مفادات کے ٹکراؤ پر شدید تنقید کی ہے، جبکہ کانگریس کے اراکین خود بھی اقتدار میں رہتے ہوئے اسٹاک ٹریڈنگ کے ذریعے خطیر رقم کمانے پر کڑی جانچ کا سامنا کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "صدر ٹرمپ نے پوری وفاقی حکومت میں فراڈ کے خلاف بھرپور جنگ شروع کر رکھی ہے، مجرموں کو کٹہرے میں لایا جا رہا ہے اور ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر بچائے جا رہے ہیں۔”
عالمی سطح پر بدعنوانی کی درجہ بندی میں امریکا سرفہرست
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں شہری یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی حکومتیں کم کرپٹ ہو رہی ہیں، وہیں امریکا میں اس کے برعکس رجحان پایا جا رہا ہے۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے 38 رکن ممالک میں بدعنوانی کا اوسط تناسب 2009 کے 69 فیصد سے کم ہو کر 2022 کے بعد سے 60 فیصد سے نیچے آ چکا ہے۔ تاہم، پہلی بار امریکا اس فہرست میں سرفہرست آ گیا ہے، اور دنیا کے گنے چنے ممالک (جیسے لبنان، پیرو، گھانا اور نائجیریا) ہی بدعنوانی کے احساس میں امریکا سے آگے ہیں۔

