ہینڈ گرنیڈ اور خودکار ہتھیاروں کی فائرنگ، دو ایس ایچ اوز زخمی، جوابی کارروائی میں دو دہشتگرد جہنم واصل
ممتازے بلٹ پروف جیکٹ کے باوجود جانبر نہ ہو سکا، حملہ آور "مخبری کا بدلہ” کے نعرے لگاتے ہوئے فرار، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان
پشاور: پشاور کے نامور لیکن قانون شکن حلقوں میں سرگرم رہنے والا کردار، ممتاز عرف ممتازے، نادرن بائی پاس کے قریب ایک مسلح حملے میں ہلاک ہو گیا۔
ذرائع اور پولیس رپورٹ کے مطابق، بحرین سے پاکستان منتقلی کے بعد جب اسے اسلام آباد ائیرپورٹ سے مختلف سنگین مقدمات میں تفتیش کے لیے لے جایا جا رہا تھا، تو راستے میں نامعلوم ملزمان نے پولیس پارٹی پر جدید اسلحے اور دستی بموں سے شدید حملہ کر دیا۔ اس فائرنگ کے تبادلے میں دو ایس ایچ او اور ایک کانسٹیبل زخمی ہوئے، جبکہ خود ممتاز عرف ممتازے مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں یا مخالفین کی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق، ممتاز عرف ممتازے کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بلٹ پروف جیکٹ پہنا کر ڈی ایس پی چمکنی کی سرکاری گاڑی میں تھانہ داؤدزئی منتقل کیا جا رہا تھا۔ راستے میں پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تقریباً 10 رکنی مسلح گروہ نے پولیس قافلے کو گھیرے میں لے لیا اور جدید چھوٹے و بڑے خودکار ہتھیاروں سے اندھادھند فائرنگ شروع کر دی۔
لالی گینگ کا بدلہ اور خونی جھڑپ کی اندرونی کہانی
ابتدائی تحقیقاتی حقائق کے مطابق، حملہ آوروں نے انتہائی مہارت کے ساتھ پہلے پولیس گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنایا اور پھر گاڑی پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کر دیا۔ حملے کے دوران جب ممتازے کو حفاظت کے پیش نظر دوسری گاڑی میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تو پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ عینی شاہدین اور پولیس ذرائع کے مطابق، ملزم پر حملہ کرنے والے بدمعاش فرار ہوتے وقت "مخبری کا بدلہ” لینے کے نعرے لگا رہے تھے۔
ممتاز عرف ممتازے پر پشاور اور گردونواح میں قتل و غارت، اقدامِ قتل، بھتہ خوری اور لینڈ مافیا سے جڑے 40 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے۔
ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ نادرن بائی پاس پر حملہ کرنے والے تمام مبینہ اجرتی قاتلوں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ فائرنگ کے تبادلے میں مارے جانے والے دونوں حملہ آوروں کی شناخت سید نواب اور علی خان کے ناموں سے ہوئی ہے، جن کے خلاف پہلے سے ہی مختلف تھانوں میں سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس واردات میں استعمال ہونے والی دونوں موٹر سائیکلیں اس سے قبل فقیر آباد اور چمکنی کے علاقوں سے چھینی گئی تھیں۔
پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے حملے کی گھناؤنی منصوبہ بندی مبینہ طور پر لالی گینگ کے ایک قریبی عزیز (کزن) نے کی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا اور تمام قانونی و ضابطہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد ہلاک ہونے والے دونوں حملہ آوروں کی لاشیں ان کے ورثا کے سپرد کر دی ہیں۔ پولیس کا عزم ہے کہ اس نیٹ ورک کے باقی ماندہ کارندوں کو بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جبکہ زخمی ایس ایچ اوز کی طبی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔

