مٹیاری رپورٹ عامر علی انڑ
\مٹیاری کی تعصیل ہالا کے مخدوم غلام حیدر گورنمنٹ ہائی اسکول میں پانی پینے کے معاملے پر دو طلبہ گروپوں کے درمیان معمولی جھگڑا ہوا، جس کے بعد مبینہ طور پر لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے حملے کے نتیجے میں دو طلبہ سمیت ایک طالب علم کا والد زخمی ہوگیا۔ذرائع کے مطابق اسکول کے اندر فراش اور ڈاہری برادری سے تعلق رکھنے والے دو طلبہ گروپوں کے درمیان پانی پینے کے معاملے پر تلخ کلامی کے بعد جھگڑا ہوا۔ جھگڑے کے بعد ڈاہری برادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے مبینہ طور پر اپنے رشتہ داروں کو اطلاع دی، جس پر کچھ افراد لاٹھیاں اور کلہاڑیاں لے کر اسکول پہنچ گئے۔مبینہ حملے میں میلاد رضا فراش، امام الدین فراش اور ان کے والد سدیر فراش زخمی ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اسکول پہنچی اور صورتحال پر قابو پالیا۔واقعے کے خلاف اساتذہ نے گسٹا رہنما کریم ڈنو کاکا اور رحمان کشمیری کی قیادت میں درگاہ روڈ پر احتجاجی دھرنا دے کر سڑک بلاک کردی۔ اساتذہ کا مطالبہ تھا کہ اسکول میں داخل ہوکر طلبہ پر حملہ کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے والے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔دھرنے کے دوران اساتذہ کا کہنا تھا کہ طلبہ کے درمیان معمولی جھگڑا ہوا تھا، جسے اساتذہ نے مداخلت کرکے ختم کروا دیا تھا، تاہم اس کے باوجود مبینہ طور پر کچھ افراد لاٹھیوں اور کلہاڑیوں کے ساتھ اسکول میں داخل ہوئے اور فراش برادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب زخمی طلبہ اور ان کے والد کو تعلقہ اسپتال ہالا منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ ڈی ایس پی ہالا محمد یعقوب برڑو اور ایس ایچ او ہالا ایاز احمد بھگیو بھی اسپتال پہنچے اور زخمیوں سے واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔پولیس افسران نے زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔۔۔۔

