لاہور : وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی کے خلاف ہتکِ عزت کا بڑا قانونی کیس جیت لیا ہے۔ لاہور کے ‘ڈیفامیشن ٹربیونل’ (Defamation Tribunal) نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کو 30 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی کے خلاف ہتک عزت کا کیس جیت لیا
وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے معین قریشی پر 8 کروڑ 40 لاکھ روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا
ہتک عزت کیس میں عظمی بخاری کی جانب سے انکے وکیل علی بخاری نے دلائل دیے
اپوزیشن لیڈر پنجاب معین ریاض قریشی نے خود اعتراف کیا انہوں نے ٹی وی چینل کے پروگرام میں یہ باتیں کیں،ڈیفینیشن ٹربیونل
معین ریاض قریشی کی جانب سے ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے جس سے ثابت ہو کہ ان پر الزام غلط ہے، ڈیفینیشن ٹربیونل
معین ریاض قریشی کے وکلا بھی دلائل میں عظمی بخاری کے دعوے کو غلط ثابت نہیں کر سکے، ڈیفینیشن ٹربیونل
عظمی بخاری نے ڈیفمیشن ایکٹ کے تحت لاہور کے ڈیفمیشن ٹریبیونل میں ہتک عزت کا دعوی دائر کیا تھا
عظمی بخاری نے معین قریشی کی جانب سے نجی ٹی وی پروگرام میں دیے گئے بیان کی بنیاد پر ہتک عزت کا دعوی دائر کیا تھا
معین قریشی 30 لاکھ روپے ہرجانے کی رقم ادا کرینگے
معین قریشی نے الزام لگایا تھا کہ وزیراعلی کے پی کے دورہ پنجاب اسمبلی کے دوران عظمی بخاری نے 150 سے 200 پیڈ افراد کو اسمبلی کے اندر داخل کروایا
معین قریشی نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ جن صحافیوں نے سہیل آفریدی سے سوال کیے وہ بھی عظمی بخاری کے تنخواہ دار ملازم تھے
اس الزام کو عظمیٰ بخاری نے سراسر جھوٹا، من گھڑت اور اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش قرار دیا
لاہور کی ڈیفیمشن ٹربیونل نے ہتک عزت کیس کا مختصر فیصلہ جاری کردیا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا
— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) October 20, 2026
عظمیٰ بخاری نے ‘پنجاب ڈیفامیشن ایکٹ’ کے تحت لاہور کے ڈیفامیشن ٹربیونل میں اپوزیشن لیڈر کے خلاف 8 کروڑ 40 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس پر ان کے وکیل علی بخاری نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔
ڈیفامیشن ٹربیونل نے فیصلے میں واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں یہ متنازع بیانات دیے تھے۔ تاہم، وہ اور ان کی قانونی ٹیم عدالت کے سامنے اپنے الزامات کی سچائی کا کوئی ایک بھی ثبوت یا شواہد پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور نہ ہی عظمیٰ بخاری کے دعوے کو غلط ثابت کر سکے۔
ٹربیونل نے الزام ثابت ہونے پر معین ریاض قریشی کو حکم دیا کہ وہ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کو 30 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کریں۔ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
اپوزیشن لیڈر نے کیا الزامات عائد کیے تھے؟
اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے ایک نجی ٹی وی شو کے دوران الزام لگایا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورۂ پنجاب اسمبلی کے موقع پر عظمیٰ بخاری نے 150 سے 200 پیڈ (Paid) افراد کو اسمبلی کی عمارت کے اندر داخل کروایا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کے پی کے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے سخت سوالات کرنے والے تمام صحافی بھی عظمیٰ بخاری کے تنخواہ دار ملازم تھے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ان تمام الزامات کو سراسر جھوٹا، من گھڑت اور اپنی سیاسی و ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش قرار دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور بالآخر قانونی جنگ جیت لی۔

