کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے ایک حیران کن اور غیر معمولی کارروائی کرتے ہوئے تھائی لینڈ جانے والے دو پاکستانی مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کر دیا۔ امیگریشن حکام کے مطابق دونوں مسافروں کا تھائی لینڈ جا کر مبینہ طور پر ہم جنس شادی کرنے اور بعد میں اسے یورپ میں رجسٹر کروانے کا منصوبہ تھا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق آف لوڈ کیے گئے مسافروں کی شناخت شاہد اور خلیل کے نام سے ہوئی ہے۔
مسافر شاہد کا تعلق پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ سے ہے جبکہ خلیل سیالکوٹ کا رہائشی ہے۔ دونوں مسافر پاکستانی پاسپورٹس اور سیاحتی (ٹورسٹ) ویزوں پر تھائی لینڈ روانہ ہونے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تھے، جہاں امیگریشن کاؤنٹر پر شک کی بنیاد پر ان سے تفتیش شروع کی گئی۔ دورانِ تفتیش مسافروں سے ہونے والی پوچھ گچھ میں اہم اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں،خلیل نے اعتراف کیا کہ اس کی شاہد سے پہلی ملاقات سال 2017 میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے شاہد اسے ہر ماہ باقاعدگی سے تقریباً 60 ہزار روپے مالی امداد بھیجتا رہا ہے۔مسافر شاہد نے حکام کو بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے تک یورپ میں مقیم رہا ہے اور یورپ کے قوانین سے اچھی طرح واقف ہے۔دونوں مسافروں نے حکام کے سامنے اعتراف کیا کہ ان کا مقصد تھائی لینڈ پہنچ کر اپس میں قانونی شادی رچانا تھا، جس کے بعد وہ اس شادی کو یورپ میں رجسٹرڈ کروا کر ہمیشہ کے لیے یورپ میں ایک ساتھ زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ایف آئی اے امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کا سفری مقصد عام سیاحت سے بالکل مختلف اور مشکوک پایا گیا، جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے دونوں کو پرواز میں سوار ہونے سے روک کر آف لوڈ کر دیا گیا۔ امیگریشن حکام نے دونوں مسافروں کو مزید قانونی کارروائی اور باریک بینی سے جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ سیل کے حوالے کر دیا ہے، جہاں ان سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

