پشاور:قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ فیصلے عدالتوں میں ہوں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو معاملات سڑکوں پر آئیں گے۔
پشاور میں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین بڑی مشکل سے بنا ہے۔ محمود اچکزئی کے مطابق آئین کے آرٹیکل 58 (2B) نے ہماری چار اسلمبیاں توڑی ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف کا کہنا تھا کہ ہماری نہ نواز شریف اور نہ ہی آصف زرداری سے کوئی دشمنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فرانس میں مہنگائی کے خلاف لاکھوں لوگ نکلے، آگ لگائی لیکن وہاں پولیس نے ابھی تک ایک گولی نہیں چلائی۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حکومت کے خلاف بھی پر امن احتجاج کرنا ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ لڑائی کا اب آخری مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔فرانس میں مظاہرے ہوئے کسی نے گولی نہیں چلائی، ہم جلوس نکالتے ہیں یہ سیدھی سر میں گولیاں مارتے ہیں، سیاسی لوگوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو یہ بربادی پاکستان کو نگل جائے گیملکی انتخابات اور عوام کے مینڈیٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ چار کروڑ عوام کی رائے دہی اور ووٹ کا بھیانک مذاق اڑایا گیا، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہئے، عمران خان اچھا ہو یا برا لیکن یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ 2024ء کا الیکشن عمران خان اور اس کی پارٹی نے واضح طور پر جیتا تھا مگر حکمران طبقہ وہ مینڈیٹ دینے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھا، یہ لوگ پہلے دن سے ہی اس کوشش میں لگے ہوئے تھے اور انہوں نے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر قومی اسمبلی کی نشستیں کم کرکے 70 پر لا کھڑا کیا
فیصلے عدالتوں میں نہ ہوئے تو معاملات سڑکوں پر آئیں گے، محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر

