راولپنڈی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی روابط اور گفتگو کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم انہوں نے دوٹوک الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سلامتی یا مقدس مقامات کو درپیش کسی بھی خطرے کا جواب مکہ الائنس کے تحت مشترکہ طور پر اور فوری دیا جائے گا۔
‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت گزشتہ کئی ماہ سے تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ حالات کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے اور تنازعات کا پرامن حل نکالا جا سکے۔
رازداری کی وجہ سے آپریشنل تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے، انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد اپنی سیکیورٹی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کاکہنا تھا کہ پاکستان اور اس کے علاقائی شراکت داروں کی کوششیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی حدود میں اضافہ نہ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بار بار کی عسکری محاذ آرائی خطے کے ممالک کے مفاد میں نہیں ہے اور اس کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔
سعودی عرب اور حرمین شریفین کا دفاع کے حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں پر پاکستانی قوم، سیاسی اور عسکری قیادت میں شدید تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے۔ پاکستان موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت سعودی عرب کو تمام تر ضروری لاجسٹک اور عسکری امداد فراہم کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین قائم مکہ الائنس کا اجتماعی دفاعی نظام باقاعدہ طور پر فعال (Implement) ہو چکا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ انتظام پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دیرینہ دفاعی تعاون اور تاریخی تعلقات پر مبنی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دفاعی انتظام کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے بھی پیش رفت ہوئی ہے، جس میں سیکریٹریٹ کا قیام اور تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام پر مشتمل اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی شامل ہے۔
یو این چارٹر کے تحت قائم یہ الائنس اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 (دفاعِ خود اختیاری) کے تحت قائم کردہ ایک دفاعی فریم ورک ہے، جو کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا بلکہ اس کا مقصد جارحیت کو روکنا ہے۔
مشترکہ ردِعمل اتحاد کی شقوں کے مطابق تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف بھی کی جانے والی براہِ راست یا بالواسطہ جنگ کو بقیہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا اجتماعی جواب دیا جائے گا۔ الائنس کا باقاعدہ سیکریٹریٹ اور اسٹریٹجک کمیٹی تشکیل پا چکی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے سعودی عرب پر حملوں کے بعد تہران کو براہ راست وارننگ دی تھی، تو انہوں نے ایسی بات چیت کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے سفارتی تبادلے کشیدگی کو کم کرنے پر مرکوز رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ نیا دفاعی انتظام تینوں ممالک کے پہلے سے موجود دوطرفہ دفاعی معاہدوں یا سلامتی سے متعلق شراکت داریوں کی جگہ نہیں لے گا۔ اس کا مقصد ان تعلقات کو ختم کرنے کے بجائے مشترکہ سلامتی کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سعودی عرب پر حملوں کے ذمہ داروں اور ان کی معاونت کرنے والوں کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفاعی ذمہ داریوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ رکن ممالک اپنے شراکت داروں کو درپیش خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق اجتماعی دفاعی نظام اسی لیے بنایا گیا ہے کہ ممکنہ حملہ آوروں کو یہ اندازہ ہو کہ کسی رکن ملک کو نشانہ بنانے کے نتائج صرف اسی ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔
غیر ریاستی مسلح گروپوں سے نمٹنے کے حوالے سے پاکستان کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھاکہ دہشت گرد گروہ روایتی سفارتی اشاروں کو نہیں سمجھتے، اس لیے واضح دفاعی الائنس کے ذریعے حملہ آوروں اور ان کے پشت پناہوں کو ناقابلِ تردید پیغام دینا ضروری تھا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق ایسے حالات میں واضح دفاعی ضمانتیں ضروری ہیں تاکہ مسلح گروہ علاقائی عدم استحکام سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اور مزید حملوں کی حوصلہ شکنی ہو۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ مکہ الائنس صرف تین بانی ارکان تک محدود نہیں ہے، بلکہ خطے میں امن و استحکام کے یکساں اہداف رکھنے والے دیگر ممالک کو بھی مستقبل میں اس کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رکنیت کے بارے میں فیصلے موجودہ رکن ممالک کی سیاسی اور اسٹریٹجک قیادت کرے گی۔

