صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی برطرفیوں کی اتنی بڑی تعداد پر حیران رہ گئے، آرمی سیکرٹری ڈین ڈراسکول کا استعفا بھی اسی کشمکش کا نتیجہ
واشنگٹن:امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) میں سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی قیادت میں جاری انتظامی تبدیلیوں نے عسکری تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 21 اعلیٰ فوجی رہنماؤں اور افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس طویل فہرست میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، چیف آف نیول آپریشنز، ایئر فورس کے چیف آف اسٹاف، نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کے ڈائریکٹرز، ساؤتھ کام (SOUTHCOM) کے کمانڈر، کوسٹ گارڈ کے کمانڈنٹ، آرمی چیف آف اسٹاف کے ساتھ ساتھ اب آرمی اور نیوی کے سیکرٹریز بھی شامل ہیں۔
‘دی اٹلانٹک’ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جب مستعفی ہونے والے آرمی سیکرٹری ڈین ڈراسکول نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ پینٹاگون سے کتنے اعلیٰ افسران کو نکالا جا چکا ہے، تو صدر بھی اس طویل فہرست پر دنگ رہ گئے۔ اس ملاقات کے چند ہی دنوں بعد ڈین ڈراسکول نے بھی اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔
دوسری جانب امریکی کانگریس کے ارکان، بالخصوص ریپبلکن رہنما مائک راجرز نے عسکری قیادت میں اس مسلسل اکھاڑ پچھاڑ اور عدم استحکام پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری اس جنگ کو سات ماہ کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، جس دوران 1,700 سے زائد پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز استعمال ہو چکے ہیں اور یورپی ممالک کے عسکری ذخائر بھی انتہائی بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے نازک وقت میں جب اگلے محاذوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، تجربہ کار اور سینیئر فوجی افسران کا اس طرح مسلسل مستعفی ہونا یا نکالا جانا ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

