امریکا ایران جنگ کے اثرات پاکستان کی معیشت پر ظاہر ہونے لگے، عالمی توانائی بحران نے مقامی منڈیوں کو جکڑ لیا
اسلام آباد / کراچی:پاکستان میں معاشی دباؤ میں ایک بار پھر شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں نزیومر پرائس انفلیشن (صارفین کی مہنگائی) بتدریج اوپر کی طرف گامزن ہے۔
مہنگائی کی رفتار تیز ہونے کی بنیادی وجوہات میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ان کے بالواسطہ اثرات اور گندم کی نرخوں میں مسلسل اچھال شامل ہیں۔ اگست کے مہینے میں ہیڈ لائن انفلیشن ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں لوٹ آئی اور 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس سے قبل جولائی میں یہ شرح 9.2 فیصد تھی۔
ماہانہ بنیاد پر بھی مہنگائی کا گراف مسلسل دوسرے ماہ 1 فیصد سے زائد یعنی 1.2 فیصد پر کھڑا رہا۔ اس بگڑتی ہوئی صورتحال نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی سے متعلق محتاط مؤقف کو مزید تقویت دی ہے، کیونکہ مالی سال 27 کے دوران مہنگائی کے اپنے درمیانی مدت کے ہدف (5 سے 7 فیصد) سے اوپر رہنے کے قوی امکانات ہیں۔ جاری پاک-ایران اور امریکی تنازع کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں توانائی کی بلند قیمتیں اس خطرے کو مزید بڑھا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بنیادی قیمتوں کا دباؤ اب بھی کم نہیں ہوا اور کور انفلیشن مسلسل پانچویں ماہ 8 سے 9 فیصد کی رینج میں برقرار ہے (شہری علاقوں میں 8.8 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.5 فیصد)۔ دوسری جانب فوڈ انفلیشن میں ماہانہ بنیاد پر 1.7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں خراب ہونے والی اشیا (سبزیوں اور پھلوں) کی قیمتوں میں 4.4 فیصد تک کا بڑا اضافہ دیکھا گیا۔ پیاز کی قیمتوں میں 48.4 فیصد، آلو میں 10.6 فیصد اور انڈوں میں 10.4 فیصد تک کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم زیادہ تشویشناک صورتحال گندم کی قیمتوں کی ہے، جن میں ماہانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں 7.7 فیصد اور شہروں میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا۔ سالانہ بنیادوں پر صورتحال انتہائی گھمبیر ہے جہاں شہری علاقوں میں گندم 87 فیصد اور دیہی علاقوں میں 73 فیصد مہنگی ہو چکی ہے۔ عالمی سطح پر مہنگی گندم اور سرکاری ذخائر میں کمی اس بحران کو مزید ہوا دے رہی ہے۔
ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں ماہانہ بنیاد پر سب سے زیادہ 3.4 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 20.2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں بلند قیمتیں ہیں۔ ایل پی جی کی سالانہ قیمتوں میں 56 فیصد اور موٹر فیول میں 25 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ بجلی اور واٹر سپلائی کے نرخ بھی اوپر گئے ہیں کیونکہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) کا بوجھ مسلسل صارفین پر پڑ رہا ہے۔
بیرونی معاشی محاذ پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بلند درآمدی قیمتوں کے باعث ‘ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ’ (REER) بڑھ کر 108 کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ریئر کو دوبارہ متوازن سطح (100) پر لانے کے لیے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کو 300 سے اوپر جانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، تاہم حکومت کرنسی میں بڑی گراوٹ سے گریزاں ہے۔ اگست کی مہنگائی کے بعد ریئل پالیسی ریٹ بمشکل 0.4 فیصد مثبت ہے، جس کے بعد اب ماہرین کا ماننا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے لیے آنے والے مہینوں میں شرحِ سود میں کمی کا جواز پیش کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا، اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو شرحِ سود میں ایک اور اضافے (Rate Hike) کا خطرہ بھی سر پر منڈلانے لگا ہے۔

