نئی دہلی:بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیاسی اور طلبہ حلقوں میں جاری کشیدگی کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ "کاکروچ جنتا پارٹی” (CJP) نے پانچ ستمبر کو دہلی میں طے شدہ اپنے احتجاجی مارچ کو منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان منگل کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی ایک اہم سماعت کے دوران پارٹی کے ترجمان سورو داس نے عدالت کو مطلع کرتے ہوئے کیا۔
سپریم کورٹ میں طلبہ مظاہرین کے خلاف درج تمام مقدمات اور ایف آئی آر کو ختم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اس دوران مرکز اور دہلی پولیس کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت کے ساتھ طے پانے والے تمام مطالبات اور یقین دہانیوں کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق بھارت کی وفاقی حکومت نے ایف آئی آر کی عدم پیروی کا عندیہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت 20 جولائی سے 25 جولائی کے درمیان طلبہ مظاہرین کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر کو آگے نہیں بڑھائے گی اور ان کی پیروی نہیں کی جائے گی۔ جبکہ اس پورے معاملے میں اب مزید کوئی نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔
نیٹ (NEET) پیپر لیک کے تنازع کے دوران مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے متاثرہ خاندانوں کو حکومتی سطح پر مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں طلبہ احتجاج کے سلسلے میں درج تمام ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ سنگین مجرمانہ واقعات میں ملوث 2,873 افراد کے خلاف مرکز اور دہلی پولیس کو تازہ ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ نیٹ پیپر لیک کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے طلبہ کے لواحقین کو اگلے تین ماہ کے اندر اندر لازمی طور پر معاوضہ فراہم کرے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کی دادرسی کی جا سکے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا دہلی مارچ منسوخ: سپریم کورٹ نے طلبہ مظاہرین کی تمام ایف آئی آر خارج کر دیں،

